تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 533
جب وہ اس میں سے گذرگئے توان کے بعد فرعونیوں نے بھی گذرنا چاہا مگر اتنے میںپانی واپس آگیااور وہ سمندر میں غرق ہوگئے۔قرآن کریم میں اس واقعہ کے متعلق دولفظ استعمال کئے گئے ہیں۔ایک فَرَقَ(البقرۃ:۵۱) اور ایک اِنْفَلَقَ (الشعراء:۶۴)۔جس کے معنے جداہوجانے کے ہیںپس قرآن کریم کے الفاظ کے مطابق اس واقعہ کی یہی تفصیل ثابت ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل کے گذرنے کے وقت سمندر کنارہ سے ہٹ گیا تھااور جوخشکی نکل آئی تھی اس میںسے بنی اسرائیل گذرگئے تھے۔اور بحیرئہ احمر کے اس کنارہ پرجس پر سے موسیٰ ؑگذرے یہ نظارہ عموماً نظر آتارہتاہے چنانچہ لائف آف نپولین میں بیان کیا گیا ہے کہ جب نپولین مصر گیا تو وہ اس جگہ کو دیکھنے گیا جس کی نسبت روایت میںہے کہ وہاں سے مصری گزرے تھے اس وقت لہر پیچھے کو ہٹی ہوئی تھی۔وہ ایشائی کنارہ کی طرف چلا گیا۔اور مختلف چیزوں کے دیکھنے میں اس کا بہت سا وقت لگ گیا۔جب وہ واپس لوٹنے لگا تو رات آگئی اور یہ جماعت راستہ بھول گئی۔رات کی تاریکی بڑھ گئی اورگھوڑے زیادہ سے زیادہ پانی کی اونچی ہونے والی لہروں میں دھنسنے لگے۔حتیٰ کہ پانی گھوڑوں کے تنگوں تک پہنچ گیا۔اور ہلاکت یقینی ہوگئی۔اس مصیبت سے نپولین نے اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو اسی نہ گھبرانے والی طبیعت کے ذریعے سےنکالا جو اسے کسی موقعہ پر بھی چھوڑتی نہ تھی۔گھوڑے آد ھی رات کے وقت جاکر کہیں پانی سے باہر نکلے جب کہ وہ چھاتی تک پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔اس کنارہ پر لہر بائیس فٹ تک اونچی اٹھتی ہے۔نپولین نے باہر نکل کر کہا کہ۔’’اگر میں اس طریق پر فرعون کی طرح غرق ہوجاتا توتمام مسیحی پادریوں کو میرے خلاف وعظ کرنے کا ایک اچھا مصالحہ مل جاتا۔‘‘ (THE LIFE OF NEPOLEON BONAPART BY JEAN S۔C۔ABBOT P۔96 97) اس واقعہ میں معجزہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایسے وقت میں سمندر کے سامنے پہنچایا جبکہ جزرکا وقت تھا اور اس نے مصریوں کے راستہ میں اس قسم کی رکاوٹیں ڈالنی شروع کردیں جن سے ان کی رفتار سست ہو گئی۔یہاں تک کہ پانی کے لوٹنے کا وقت آگیا۔بائیبل میں لکھا ہے کہ خدا نے ’’ ان کے رتھوں کے پہئیوں کو نکال ڈالا سو ان کا چلانا مشکل ہوگیا‘‘ (خروج باب ۱۴ آیت ۲۵ ) معلوم ہوتاہے کہ فرعون جب سمندر پر پہنچاہے اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام سمندر کے اس خشک ٹکڑے کا جس سے وہ گذر رہے تھے اکثر حصہ طے کر چکے تھے۔فرعون نے ان کو پار ہوتے دیکھ کر جلدی سے اس میں اپنی