تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 532

نہیں۔ہم تو اسی بات کو مانیں گے جو ہمارے خدا کی طرف سے آچکی ہے اورجس کی صداقت کا ہم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرچکے ہیں۔وَ لَقَدْ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِيْ اورہم نے موسیٰ کو وحی کی تھی کہ میرے بندوں (یعنی اپنی قوم) کو رات کے اندھیرے میں نکال کر لے جا پھر فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيْقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا ان کو سمندر میں ایک راستہ بتاجو خشک ہو۔نہ تم کو یہ ڈر ہوگا کہ کوئی (شخص) آکر پیچھے سے پکڑلے اور نہ تم وَّ لَا تَخْشٰى۰۰۷۸فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِيَهُمْ (سمندر کی تباہی سے) ڈرو گے۔(اس پرموسیٰ اپنی قوم کولےکر سمندر کی طرف گئے) اور فرعون اپنے لشکر لےکر ان کے مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْؕ۰۰۷۹وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا پیچھے پیچھے چلا اورسمندر نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو بالکل ڈھانپ لیا۔اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا هَدٰى ۰۰۸۰ اور ہدایت کا طریق نہ بتایا۔تفسیر۔فرماتا ہے ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ ہمارے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات مصر سے نکال لے جائو۔اور سمندر میں سونٹا مار کر ان کے لئے خشک راستہ بنادو تم اس طرح اس کو پار کرلو گے اور تعاقب سے اور ڈوبنے سے نہ ڈرو گے۔پھر فرعون نے اپنے لشکروں سمیت بنی اسرائیل کا تعاقب کیا لیکن سمندر کا ایسا ریلا آیا کہ وہ غرق ہوگئے اور یوں فرعون نے اپنی قوم کو تباہی میںڈالا اور اس سے بچ نہ سکا۔ان آیات سے معلوم ہوتاہے کہ جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو فرعونیوں نے ان کا تعاقب کیا۔جب وہ قریب پہنچے تو بنی اسرائیل گھبراگئے خدا تعالیٰ نے ان کو تسلّی دی اور موسیٰ ؑسے کہا کہ سمندر پر سونٹا ماریں۔ان کے سونٹامارنے سے سمندر میں ایک راستہ ہوگیا اور دونوں طرف پانی اس طرح معلوم ہوتاتھا جس طرح ریت کے ٹیلے