تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 524

قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَةِ وَ اَنْ يُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰۶۰ (اس پر موسیٰ نے) کہا کہ تمہارے (ہمارے) اکٹھے ہونے کا دن (تمہاری) عید کا دن ہو۔اور نیز ہ بھر سورج چڑھے سب لوگوں کو جمع کیا جائے۔تفسیر۔حضرت موسیٰ علیہ السلام یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسی جگہ تجویز ہو جوفریقین کے لئے مساوی ہو اس لئے انہوں نے کہا مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَةِ وَ اَنْ يُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى کہ زینت یعنی عید کا دن ہوناچاہیے۔یہ ان کا ایک مقدس دن تھا جس میں کسی پر کوئی زیادتی نہیں کی جاتی تھی جیسے عربوں میں حج کے ایام مقدس سمجھے جاتے ہیں پھر صبح کا وقت مقرر کیا گیا یہ بھی بہت اچھا وقت تھا کیونکہ دن میں کام کرنے کی وجہ سے لوگوں کے دماغ تھکے ہوئے ہوتے ہیں اور اچھی طرح توجہ پیدا نہیں ہوسکتی لیکن صبح کے وقت دماغ تازہ ہوتاہے اس لئے بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ۰۰۶۱قَالَ لَهُمْ اس پر فرعون پیٹھ پھیر کر چلا گیا اور جو تدبیر یں اس سے ممکن ہوسکتی تھیں انکو مہیا کیا۔اور پھر (موسیٰ کی طرف) لوٹا۔مُّوْسٰى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ (تب) موسیٰ نے ان سے کہااے لوگو ! تم پر ہلاکت ہو۔اللہ پر جھوٹ نہ باندھو۔ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو عذاب کے بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى۰۰۶۲فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ ذریعہ سے پیس ڈالے۔اور جوکوئی (خدا پر) افتراء کرتاہے وہ ناکام ہو جاتا ہے۔یہ سن کر (فرعون اور اس کے ساتھی) بَيْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى ۰۰۶۳قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ آپس میں جھگڑنے لگے اور خفیہ منسوبے کرنے لگے۔(اور) انہوں نے کہا یہ دونوں (یعنی موسیٰ اور ہارون) اور کچھ