تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 518
اس شخص کی طرف سے جس کے متعلق بات کہی گئی ہو(اقرب) آیت لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى میں لعل کالفظ موسیٰ ؑ اور ہارون ؑکے لئے ہے یعنی قُوْلَا لَہ قَوْلًا لَیِّنًا رَاجِعِیْنَ اَنْ یَّتَذَکَّرَ یعنی اس امید کے ساتھ فرعون کوتبلیغ کرنا کہ شاید وہ ہدایت پا جائے پس لعل کے لفظ سے کوئی غلط فہمی نہیںہونی چاہیے۔خدا تعالیٰ کا کلام جو کسی پیشگوئی پر مشتمل ہوتاہے اس میںبالعموم یہی طریق اختیار کیا جاتاہے کہ اگر دوسراشخص اپنی اصلاح کرلے گا توبچ جائے گا اور اگر نہیں کرے گاتو ہلاک ہوگا۔قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى۰۰۵۰قَالَ رَبُّنَا الَّذِيْۤ اَعْطٰى كُلَّ (اس پر فرعون نے )کہا اے موسیٰ ! تم دونوں کارب کون ہے ؟ (موسیٰ نے )کہا ہمارارب وہ ہے جس نے ہر شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى ۰۰۵۱قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى۰۰۵۲ چیز کو ( اس کی ضرورت کے مطابق) اعضاء عطاکئے ہیںاورپھر ان (اعضاء) سے کام لینے کا طریقہ سکھایا ہے۔قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ فِيْ كِتٰبٍ١ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَ لَا (فرعون نے )کہا (اگر یہ بات ہے )تو پہلے لوگوں کاکیا حال تھا (یعنی وہ تو ان باتوں کو نہیں مانتے تھے ان سے کیا يَنْسَىٞ۰۰۵۳ سلوگ ہوگا؟( موسیٰ نے )کہا ان (پہلے لوگوں )کا علم تومیرے رب کو ہے (ان سب کے حالات اس کی )کتاب میں محفوظ (ہیں) میرا رب نہ بھٹکتاہے اورنہ بھولتاہے۔تفسیر۔جب خدا تعالیٰ کی صفات اوراس کی وحی نازل کرنے کی عادت کا ذکر فرعون نے سنا تو چونکہ وہ ان باتوں سے ناواقف تھا اس نے حیران ہوکر موسیٰ ؑسے پوچھاکہ اے موسیٰ! یہ کیسا خداتونے پیداکر لیاہے جو پہلے لوگوں سے کبھی سنا نہ تھا۔اس پر موسیٰ ؑنے کہاکہ کیا دیکھتے نہیںہو کہ دنیا میں ایک کامل نظام پایا جاتا ہے اور ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے مطابق اعضاء ملے ہیںاور ان اعضاء سے کام لینے کا طریق بھی وہ پیدائش سے سیکھ کر آتی ہے اس پر فرعون نے کہا کہفَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى اگر یہ بات ہے تو ہمارے باپ دادے جو ان باتوں سے ناواقف تھے ان