تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 517
مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى۰۰۴۸اِنَّا قَدْ اُوْحِيَ اِلَيْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى سے ایک بڑانشان لیکر آئے ہیںاور (تجھے بتاتے ہیںکہ ) جو (شخص ہماری لائی ہوئی ) ہدایت کے پیچھے مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى۰۰۴۹ چلے گا(خدا کی طرف سے) اس پر سلامتی نازل ہوگی۔ہم پر یہ وحی نازل کی گئی ہے۔کہ جو کوئی(خداکے نشان کو )جھٹلائے گا۔اور پیٹھ پھیرلے گا۔اس پرعذاب نازل ہوگا حلّ لُغَات۔یفرط۔یَفْرطُ فَرَطَسے مضارع کاصیغہ ہے اور فَرَطَہُ کے معنے ہوتے ہیںاٰذَاہُ۔اس کو تکلیف دی۔پس اَنْ یَّفْرُطَ کے معنے ہوںگے کہ وہ ایذاء یا دکھ دے فَرَطَ فِی الْاَمْرِ کے معنے قَصَّرَ فِیْہِ کے بھی ہیںیعنی کسی معاملہ میںکمی کی(اقرب) پس اَنْ یَّفْرُطَ کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں۔کہ وہ کمی کرے یعنی ہماری بات ہی نہ سنے۔تفسیر۔اس میںبھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مشابہت پائی جاتی ہے مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تو صرف یہ کہا گیا تھا کہ فرعون سے نرم نرم باتیںکرنااور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا گیا کہ وہ نڈر ہو کر خداکے متعلق باتیںسناتے ہیں بلکہ ان کے مرید بھی ایسے ہی ہیںچنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ(القلم:۱۰) یعنی اے محمد رسول اللہ ؐ کفارچاہتے ہیں کہ تو اپنے دین کے متعلق ذرا نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کرنے لگ جائیں مگر تو ایسا نہیںکرتا۔اور مومنوں کے متعلق فرمایا۔اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ(الفتح:۳۰) یعنی دشمن کتناہی ان سے نرمی کرکے ان کو دین کے معاملہ میںنرم کرناچاہے وہ کبھی دین کے معاملہ میںکوئی لچک نہیں دکھاتے۔ہاں مومن اگر سختی بھی کریںتو اس کوبھلادیتے ہیں۔لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى میںاللہ تعالیٰ فرعون کے متعلق کہتاہے کہ شاید وہ نصیحت پکڑے اور ڈرے یہاں سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا خدا تعالیٰ کو علم تھا یا نہیں کہ وہ مانے گا یا نہیں اگر تھا تو شاید کا لفظ کیوں رکھا اور اگر یہ شاید یقین کے معنوںمیں آیا ہے تو یہ بات غلط نکلی کیونکہ فرعون نے مانا نہیںپھر شایدکا کیا مطلب ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لعل بے شک شک پردلالت کرتاہے لیکن ماہرین لغت کہتے ہیںکہ لعل میںامید کے معنے بھی پائے جاتے ہیںاور یہ ضروری نہیںکہ یہ امید قائل کی طرف سے ہو بلکہ کبھی قائل کی طرف سے ہوتی ہے کبھی سامع کی طرف سے اور کبھی