تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 516
نے یہ جواب دیا تو ابوسفیان کہنے لگا لَنَالْعُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ ہمارے پاس تو عزیٰ ہے مگر تمہارے پاس کوئی عزیٰ نہیں اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہو اللہُ مَوْلٰنَا وَلَامَوْلٰی لَکُمْ۔ہمار االلہ ہماراحافظ و ناصر ہے مگر تمہارا کوئی حافظ و ناصر نہیں (السیرۃالحلیبیہ جلد ۲ باب ذکر مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۃ احد) اب دیکھوباوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ یہ موقعہ انتہائی طور پر نازک ہے اور اگر اس وقت دشمن کو جواب دیا گیا تو ممکن ہے کہ وہ دوبارہ حملہ کردے۔جب ابوسفیان نے اللہ تعالیٰ کی توحید پر حملہ کیا تو آپ سے برداشت نہ ہوسکا اور آپ نے بڑے جوش سے فرمایا تم غلط کہتے ہو ہبل اور عزیٰ میںکیا طاقت ہے اصل طاقت تو زمین و آسمان کے خدا میںہے جس کے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی نہیںہل سکتا۔غرض خطرناک سے خطرناک مواقع پر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نڈر اور بہادر پہلوان کی طرح دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہوجاتے تھے اور ایک لمحہ کے لئے بھی ڈراور خوف کو اپنے پاس نہیں آنے دیتے تھے۔فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى۰۰۴۵قَالَا او ر تم دونوں اس سے نرم نرم کلام کرو۔شائد کہ وہ سمجھ جائے یا (ہم سے ) ڈرنے لگے۔دونوں نے عرض کیا۔اے رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ يَّفْرُطَ عَلَيْنَاۤ اَوْ اَنْ يَّطْغٰى ۰۰۴۶قَالَ ہمارے رب ہم ڈرتے ہیںکہ وہ ہم پر زیادتی نہ کرے یا ہم پر حد سے زیادہ سختی نہ کرے۔(اللہ تعالیٰ نے) لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِيْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى ۰۰۴۷فَاْتِيٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا فرمایا تم دونوں بالکل نہ ڈرو میںتمہارے ساتھ ہوں (تمہاری دعائیں بھی ) سنتاہوں اور (تمہاری حالت بھی) رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ١ۙ۬ وَ لَا دیکھتا ہوں پس دونوں اس کے پاس چلے جائو اور اس سے کہو کہ ہم دونوں تیر ے رب کے رسول ہیں۔پس تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے اور ان کو تکلیفیں مت دے۔ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف