تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 515
برا بھلا نہ کہہ۔ورنہ میںاپنی ساری قوم کامقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔جب ابو طالب نے یہ بات کہی تو اس وقت ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے انہیں غمزدہ دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمکی آنکھوں میںبھی آنسو آگئے۔مگر آپ نے فرمایا۔خدا کی قسم اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیںاور چاند کو میرے بائیںبھی لاکر کھڑاکردیں تب بھی میںا س کام کو نہیںچھوڑ سکتاجس کے لئے خدا نے مجھے کھڑاکیا ہے۔اور اے میرے چچا اگر آپ کو اپنی کمزوری اور تکلیف کا احساس ہے تو بے شک مجھے اپنی پناہ میںرکھنے سے دست بردار ہو جائیں۔میں خدا تعالیٰ کی توحید کی اشاعت سے کسی صورت میںبھی نہیںرک سکتا۔میںاس کام میں مشغول رہوں گا یہاں تک کہ خدامجھے موت د ے دے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمکے اس جواب کا ابوطالب پر اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے کہا۔اے میرے بھتیجے جا اور اپنے کام میںمشغول رہ اگر قوم مجھے چھوڑنا چاہتی ہے تو بے شک چھوڑ دے۔میںتجھے کبھی نہیںچھوڑ سکتا۔(سیرۃ ابن ہشام وفد قریش یعاقب ابا طالب جلد اول صفحہ ۸۸ ) اسی طرح اُحد کی جنگ میںجب آپ زخمی ہوکر ایک گڑھے میںگر گئے اور لوگوں میں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں تو اس سے دشمنوں میںخوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔اور ابو سفیان نے سامنے کی پہاڑی پر چڑھ کر بلند آواز سے کہا کہ بتائو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کہاں ہے ؟ چونکہ اس وقت بہت سے مسلمان زخمی پڑے تھے اور لشکر منتشر ہوچکا تھا اور خطرہ تھا کہ کفار پھر لوٹ کر مسلمانوں پر حملہ نہ کردیں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی جواب نہ دے۔جب اس نے دیکھا کہ مسلمان بالکل خاموش ہیں اور وہ کوئی جواب نہیںدے رہے جس کے معنے یہ ہیںکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ میں شہید ہوچکے ہیں۔تو پھر اس نے کہاابوبکر ؓ کہاں ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ کوئی نہ بولے جب اس سوال پر بھی ابوسفیان نے مسلمانوں کو خاموش دیکھا تو اس نے سمجھاکہ ابوبکر ؓ بھی مارے گئے ہیںاس پر پھر اس نے بلند آواز سے کہا کہ بتائو عمر ؓ کہاں ہے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھرفرمایا کہ کوئی جواب نہ دے اس سے ابوسفیان کو یقین ہوگیا کہ عمر ؓ کو بھی ہم نے مارڈالا ہے اور اس نے بڑے جوش سے کہا اُعْلُ ھُبَلُ۔اُعْلُ ھُبَلُ یعنی ہبل جو ہمارابڑابت ہے اس کی شان بلند ہو کیونکہ آج اس نے اپنے مخالفوں کوچن چن کر ہلاک کردیا ہے۔جب اس نے یہ نعرہ لگایا تو چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بار بار صحابہؓ کو یہ ہدایت دے چکے تھے کہ خاموش رہو۔اس لئے صحابہ ؓ پھر بھی خاموش رہے اوروہ بولے نہیں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے جوش سے فرمایا جواب کیوں نہیںدیتے۔کہو اللہُ اَعْلیٰ وَاَجَل۔اللہُ اَعْلیٰ وَاَجَل۔یعنی اللہ ہی اعلیٰ اوربلند شان والا ہے اللہ ہی اعلیٰ اوربلند شان والا ہے۔صحابہؓ