تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 512
دایہ بھی معمار ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی بچہ کی پرورش کرتی اور اسے کھڑاہونے کے قابل بناتی ہے۔غر ض وہ تمام دائیوں کا رد کیا ہوا بچہ حلیمہ کے گھر گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک صحت افزامقام پرپرورش کا انتظام فرما دیا۔مگر خدا تعالیٰ کی غیرت دیکھو کہ جس یتیم بچے کے لے جانے سے حلیمہ ڈرتی تھی اسی یتیم بچے کو خدا تعالیٰ نے ایک دن اس کی قوم سے لڑوادیا اور اس کوغالب کردیا۔حلیمہ کی قوم کے بہت سے افراد غزوہ حنین میںقید ہوئے اور بہت سے جانور پکڑے گئے۔حلیمہ کی قوم کے مالدار فرعون حلیمہ کے غریب بچوں سے سفارش کی خواہش کرنے سے گھبراتے تھے لیکن آخر مجبورہوکر ان کے پاس گئے۔اور جاکر کہا کہ قوم کی نظر تو تمہیں پرہے۔جائو اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی قوم کی سفارش کرو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک ان کاانتظارکرتے رہے تھے۔آخر مجبور ہوکر آپ نے حلیمہ کی قوم کے اموال غنیمت کو فوجیوں میںتقسیم کردیا تھا۔صرف غلام رہنے دئیے تھے جب حلیمہ کی ایک بچی آپ کے پاس سفارش کے لئے آئی توآپ نے فرمایا میںنے تمہارابہت انتظار کیا۔آخر تنگ آکر مال تقسیم کر دیا۔اب تم خود ہی پسند کرلو۔آیامیںمال واپس لے کرتم کو دےدوں یاقیدی تم کودےدوں اس نے قوم سے مشورہ کیاا ور کہاہمیںقید ی چاہئیںمال نہیں چاہیے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر اسلام کے سامنے یہ معاملہ رکھاانہوں نے کہا۔یارسول اللہ ہم خوشی سے ا پنے اپنے قیدی آزاد کرنے کے لئے تیار ہیںچنانچہ اسی وقت بنو ہوازن کا چھ ہزار قیدی رہا کردیاگیا۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ باب ذکرمغاذیۃ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۃ الطائف ) اب موسیٰ ؑکی پرورش کے واقعہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برورش کے واقعہ کا مقابلہ کرکے دیکھو یہ دونوں واقعات آپس میں مشابہ بھی ہیںلیکن پھر بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کا واقعہ موسیٰ ؑ کی پرورش کے واقعہ سے اپنی شان میںہزاروں گنازیادہ ہے۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ و بَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔