تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 513

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰيٰتِيْ وَ لَا تَنِيَا فِيْ ذِكْرِيْۚ۰۰۴۳ (پس جب تو اس عمر کو پہنچ گیا تو میںنے تجھے کہا کہ )تو اور تیرا بھائی میرے نشان لے کر جائو اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى ۚۖ۰۰۴۴ اور میرے ذکر میں کوئی کوتاہی نہ کرو۔تم دونوں ہی فرعون کے پاس جائو کیونکہ اس نے سرکشی اختیار کررکھی ہے۔حلّ لُغَات۔لَاتَنِیَا۔لَا تَنِیَاوَنیٰسےنہی کاصیغہ ہے اور وَنَی الرَّجُلُ فِی الْاَمْرِ کے معنے ہیں فَتَرَ وَ ضَعُفَ کمزور ہوگیا اور سست ہوگیا (اقرب )پس لَاتَنِیَا کے معنے ہونگے۔تم دونوں سستی نہ کرنا۔تفسیر۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ میںبھی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مشابہت ہے۔چنانچہ آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے فرعون کی مشابہ قوم کی طرف بھیجااور فرمایا۔اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا(المزمل:۱۶) یعنی ہم نے تمہاری طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح تمہارا نگران بناکر بھیجاہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف موسیٰ ؑ کو بھیجا تھا۔مگر فرق یہ ہے کہ گو فرعون کی طرح آپ کی قوم نے بھی آپ کوقتل کرنے کی دھمکی دی مگر آپ ڈرے نہیں بلکہ بڑی جرات سے خدا تعالیٰ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچاتے رہے اس کے بعد جب مکہ کے رئوساء نے دیکھا کہ ان کے اپنے گھروں میںایسے لوگ پیدا ہورہے ہیںجوبتوں میں خدائی طاقت تسلیم نہیںکرتے اور وہ کھلے طور پر خدائے واحد کی پرستش کرتے ہیںتو یہ بات ان کی برداشت سے بالکل باہر ہوگئی اور وہ ا کٹھے ہوکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمکے چچا ابوطالب کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہم نے آپ کی خاطر اب تک آپ کے بھتیجے کو کچھ نہیںکہامگر اب معاملہ حد سے نکل چکا ہے اور یہ ہمارے بتوںکی تذلیل کررہا ہے اس لئے آپ یا تو اسے سمجھائیںاور اس طریق سے اسے باز رکھنے کی کوشش کریں ورنہ ہم صرف اس کا نہیں بلکہ آپ کا بھی مقابلہ کریں گے اور آپ کو اپنی قوم کی سرداری سے الگ کردیں گے۔ابو طالب کے لئے اپنی ریاست کو چھوڑنا ایک نہایت ہی تلخ گھونٹ تھا۔انہوں نے سرداران قریش سے وعدہ کر لیا کہ میںاپنے بھتیجے کو سمجھانے کی کوشش کروںگا۔چنانچہ ان کے چلے جانے کے بعد ابو طالب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا اور ان سے کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری قوم تیرے خلاف سخت مشتعل ہوچکی ہے اور قریب ہے کہ وہ تجھے بھی اور ساتھ ہی مجھ کو بھی ہلاک کردیں۔میں تجھے خیر خواہی اور ہمدردی سے کہتا ہوں کہ تو بتوں کو