تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 47
اور ملائم بوٹ تو وہیں چھوڑ آئے اور کسی کی پھٹی پرانی جوتی پہن کر آ گئے اب دیکھو کسی نواب کے منہ پر تو یہ نہیں لکھا ہوتا کہ یہ نواب ہے فرض کرو جوتی کا مالک وہاں پہنچ جاتا اور ان کی گردن میں ہاتھ ڈال کر کہتا کہ چل تجھے پولیس کے حوالے کروں تو تو چور ہے تو بظاہر انہیں سزا مل جاتی مگر یہ غلطی انہیں نجات سے محروم کرنے والی نہیں تھی کیونکہ اس میں ان کے عزم کا دخل نہیں تھا۔اسی طرح آتشک اور سوزاک یہ دومرضیں بظاہر گناہ کا پھل سمجھی جاتی ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ گناہ اس کا نہ ہو بلکہ اس کے باپ یا دادا کا ہو۔فرض کرو ایک شخص کسی بیوہ سے شادی کرتا ہے اس کے پہلے خاوند کو آتشک کا مرض تھا جس سے اسے بھی آتشک ہو گئی۔اب جب یہ اپنی بیوی کے پاس جائے گا اسے بھی آتشک ہو جائے گی اور یہ بھی اس سزا میں مبتلا ہو جائے گا۔اب بظاہر یہ ہے تو زنا کی سزا مگر اس کی وجہ سے وہ جہنم میں نہیں جائے گا اور نہ اس کا دل سیاہ ہوگا بلکہ شاید اس کا دل اس کی وجہ سے پہلے سے بھی زیادہ صاف ہو جائے تو اصل چیز جو دل کو سیاہ کرنے والی ہے وہ گناہ کا باطنی حصہ ہوتا ہے اس کے ظاہر ی حصہ کی وجہ سے اگر کوئی نقصان پہنچ بھی جائے تووہ عارضی ہوتا ہے مستقل نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ اس جگہ آدم ؑکے متعلق فرماتا ہے کہ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۔آدم کے اندر ہم نے عزم نہیں پایا۔یعنی اس سے جو غلطی ہوئی وہ اجتہاداً ہوئی جیسے بائبل کے حوالجات سے ثابت ہے کہ شیطان نے کہا یہ بڑا نیک کام ہے اس کے نتیجہ میں تمہیں نیک اور بد کے پہچاننے کی طاقت حاصل ہو جائے گی اور آدم نے سمجھا کہ یہ بات درست ہے اور وہ غلطی میں مبتلا ہو گئے پس ان کی غلطی اجتہادی غلطی تھی عزم والی غلطی نہیں تھی۔(۱۱)اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا (الزمر:۵۶) یعنی سچی توبہ سے انسان کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ عیسائیت کہتی ہے کہ گناہ معاف نہیں ہوتے(متی باب ۱۲ آیت ۳۲) مگر ہم یہاں یہ بحث نہیں کر رہے کہ انجیل کا بیان درست ہے یا قرآن کریم کا بیان درست ہے ہم صرف یہ بحث کر رہے ہیںکہ اس بارہ میں قرآن کریم کیا کہتا ہے۔قرآن یہ کہتا ہے کہ توبہ سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور جب معاف ہو جاتے ہیں تو لازماً سزا بھی معاف ہو جاتی ہے۔(۱۲)اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ(الرحمٰن :۴۷) جو شخص خدا تعالیٰ کے مقام کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہے اسے دو جنتیں ملتی ہیں۔ایک اس دنیا میں اور ایک اگلے جہان میں۔اب یہ واضح بات ہے کہ یہاں جنت ملنے سے مراد دنیوی اموال نہیں ہو سکتے۔اگر دنیوی اموال مراد لئے جائیں تو خدا تعالیٰ کے کئی نیک بندے ایسے گزرے ہیں جن کے دنیوی حالات کفار سے بہت ہی ادنیٰ تھے۔خو درسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی لے لو۔آج یورپ کا مزدور آپ سے زیادہ اچھا کھانا کھاتا اور زیادہ اچھے کپڑے پہنتا ہے پس اگر اس جگہ