تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 493
میںہے۔قِیْلَ ھُوَ اِسْمُ الْوَادِی کہتے ہیں طویٰ اس وادی کانام ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوا تھا۔وَقِیْلَ اِنَّ ذٰلِکَ جُعلَ اِشَارَةً اِلٰی حَالَةٍ حَصَلَتْ لَہٗ عَلٰی طَرِیْقِ الْاِجْتِبَاء فَکَاَنَّہ طَوَی عَلَیْہِ مَسَافَةً لَوْ احْتَاجَ اَنْ یَنَالَھَا فِیْ الْاجْتِھَادِ لَبَعُدَ عَلَیہِ اور بعض ماہرین لغت کے نزدیک طویً کے لفظ میںاس مفہوم کو ادا کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چن کر اس روْحانی مقام پر پہنچادیا جہاں عام حالات میں مجاہدات سے پہنچنا مشکل ہوتاہے (مفردات ) تفسیر۔فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ کے لفظی معنے تو یہی ہیںکہ اپنی جوتیاں اتار دے مگر مراد یہ ہے کہ اپنے ہر قسم کے دنیوی تعلقات کو خدا کی خاطر توڑ دے او ر کلی طورپر اپنے خدا کا ہوجاکیونکہ رویا یا کشف کی حالت میں اگر جوتی دیکھی جائے۔تو علم تعبیر الرویا کے لحاظ سے اس سے مراد انسان کے متعلقین کا وجود ہوتاہے جیسے اس کی بیوی ہوئی۔یا بچے ہوئے یادوست او رشتہ دار وغیرہ ہوئے (تعطیر الانام از عبد الغنی النابلس زیر لفظ نعل)اور چونکہ یہ ایک کشفی نظارہ تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَفرما کرانہیں یہ ہدایت دی کہ اپنے تمام مادی تعلقات کو اب خدا کی خاطر توڑدے کیونکہ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى اب تو ایک ایسی روحانی وادی میں داخل ہو چکا ہے جو دوطرف چکر کھاتی ہے یعنی ایک طرف تو اس کا خدا سے تعلق ہے اور دوسری طرف اس کا بندوںسے تعلق ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجھے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا گیاہے اور یہ ایسا مقام ہے جہاں پر کھڑاہونے والا انسان دنیاسے کٹ کرخدا تعالیٰ کی طرف چلاجاتاہے۔اور انسانی فطرت کارخ مادیات کو چھوڑ کرروحانیات کی طرف پھر تاہے اس لئے تیرافرض ہے کہ اب تواپنے تمام دنیوی تعلقات اور محبتوں کو ترک کرکے کامل طورپر اپنے خدا کا ہوجا اور اسی سے اپنا تعلق استوار رکھ۔وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى۰۰۱۴ اور میںنے تجھے (اپنے لئے) چن لیاہے پس تیری طرف جو وحی کی جاتی ہے اس کو تو سن (اور اس پر عمل کر) حلّ لُغَات۔اِخْتَرْتُکَ۔اِخْتَرْتُکَ اِخْتَارَ۔سے متکلم کاصیغہ ہے اور اِخْتَارَہ مِنَ الرِّجَاِل اِخْتِیَارًا کے معنے ہیںاِنْتَقَاہُ وَاصْطَفَاہُ مِنْ بَیْنِھِمْ۔کہ اس کو تمام لوگوںمیںسے کسی کام کے لئے چن لیا اور خاص کرلیا (اقرب) پس اِخْتَرْتُکَ کے معنے ہوںگے میںنے تجھے تمام دوسرے لوگوں میںسے اپنے کام کے لئے