تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 489

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّيْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّيْۤ ( یعنی) جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اس نے اپنے اہل سے کہا(اپنی جگہ) ٹھہرے رہو میں نے ایک آگ دیکھی اٰتِيْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى۰۰۱۱ ہے ممکن ہے کہ میں وہاں جاکر اس آگ میں سےکوئی انگارہ تمہارے لئے بھی لے آئوں یا آگ پر (اپنے لئے کوئی روحانی ) ہدایت حاصل کروں۔حلّ لُغَات۔اُمْکُثُوْا۔أمْکُثُوْامَکَثَ۔یَمْکُثُ سے امر کاجمع کاصیغہ ہے اور مَکَثَ بِا لْمَکَانِ کے معنے ہیںلَبِثَ وَ اَقَامَ۔کسی جگہ پر ٹھہرا (اقرب ) مفردات میںہے المکث۔ثُبَاتُ مَعَ اِنْتَظَارٍ۔کسی جگہ پر ٹھہرکرکسی کا انتظار کرنا مکث کہلاتاہے۔پس اِمْکُثُوْا۔کے معنے ہوں گے تم ٹھہرو اور انتظار کرو۔اٰنَسْتُ اٰنَسْتُ اٰنَسَ سے واحد متکلم کا صیغہ ہے۔اور اٰنَسَ الشَّیْءَ کے معنے ہیںاَبْصَرَ ہُ اس کو دیکھا (اقرب ) پس اٰنَسْتُ نارًاکے معنے ہوںگے میںنے آگ دیکھی ہے۔قبس۔قَبَسٌ شُعْلَةُ نَارٍ تُؤْخَذُ مِنْ مُعْظَمِ النَّارِ (اقرب)آگ کا وہ انگارہ جو بڑی آگ سے لیا جاتاہے۔تفسیر۔اس آیت میںجو یہ فرمایا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے’’ ایک آگ ‘‘ دیکھی اس سے روحانی اور کشفی نظارہ مراد ہے نہ کہ کوئی ظاہری آگ۔کیونکہ جسمانی آگ دیکھنے والا یہ نہیںکہا کرتا کہ میںنے ’’ایک آگ ‘‘ دیکھی ہے بلکہ وہ یہ کہتاہے کہ میں نے آگ دیکھی ہے۔اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوئی جسمانی آگ دیکھی ہوتی تو عربی محاورہ کی روسے انہیںالنار یعنی آگ کا لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا۔مگر یہاں ناراً کا لفظ استعمال کیاگیا ہے جس کے معنے ایک آگ کے ہیں۔پس ’’ایک آگ‘‘ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک روحانی نظارہ تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی سمجھتے تھے کہ یہ جسمانی لکڑیوں یا کوئلو ں کی آگ نہیں ہے۔اور یہ جو فرمایا کہ میں شاید وہاں سے تمہارے لئے کوئی انگارہ لائوں۔اس میں اس طرف اشارہ تھاکہ روحانی جلوے دو قسم کے ہوتے ہیںایک جلوے وہ ہوتے ہیںجو صرف اسی کی ذات تک محدود نہیںہوتے جس پر وہ ظاہر ہوتے ہیں۔بلکہ اس کے دوستوں اور قوم کے لئے بھی ہوتے ہیںجیسا کہ جلوئہ نبوت اور جلوہ نزول شریعت اور ایک جلوہ وہ ہوتاہے جوصرف دیکھنے