تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 481
کی خیر خواہی بھی پائی جاتی تھی ،بلند ہمتی بھی پائی جاتی تھی ،صبر بھی پایا جاتاتھا،رافت بھی پائی جاتی تھی ،بدی کے مقابلہ کی طاقت بھی پائی جاتی تھی۔قوت برداشت بھی پائی جاتی تھی ،جفاکشی بھی پائی جاتی تھی ،سادگی بھی پائی جاتی تھی، صلہ رحمی بھی پائی جا تی تھی سچائی بھی پائی جاتی تھی ،غرباء پروری بھی پائی جاتی تھی ،مصیبت زدوں کی مدد کی خواہش بھی پائی جاتی تھی ،مہمان نوازی بھی پائی جاتی تھی ،بزرگوں کاادب اور چھوٹوں پر شفقت بھی پائی جاتی تھی ،محبت الٰہی بھی پائی جاتی تھی ،توکل بھی پایا جاتاتھا۔عبادات کی محافظت بھی پائی جاتی تھی۔غرض کونسی خوبی تھی جو آپ میںنہ پائی جاتی ہو۔اور کون ساکمال تھا جو آپ میں موجود نہ ہو۔یہی حکمت ہے جس کے ماتحت سورئہ مریم کے بعد اس سورۃ کو رکھا گیا ہے اور ایک لطیف پیرایہ میں اس طرف اشارہ کیا گیا کہ جب حضرت مریم ؑ کے پیٹ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پڑے تھے تو گو جس فرشتے نے آپ کوحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی خبر دی تھی وہ بَشَرًاسَوِیًّاکی شکل میںآیا تھا۔یعنی ایک تندرست مرد کی شکل میںظاہر ہوا تھا جیسا کہ سوئہ مریم میںآتاہےفَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خبر کسی فرشتہ نے ایک تندرست بشر کی شکل میںظاہر ہوکر نہیںدی بلکہ آپ خود ایک کامل القویٰ مرد تھے جن کے اندر تمام مردانہ صفات اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر تھیں۔گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو یہ صفات بالواسطہ اوروہ بھی نامکمل شکل میںملیںکیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خبر دینے والا فرشتہ بشر کہلاتا تھا رجل نہیں۔اوربشر کا وجود متمدن انسان کے دورسے پہلے تھا یعنی بشر انسان کا پہلا درجہ تھا لیکن ’’رجل‘‘ انسان کاآخری درجہ ہے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامل قوائے انسانی کے ظہور تھے جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سورۃ مریم اور بائیبل کے بیان کے مطابق صرف بشری طاقتوں کے ظہور تھے اسی وجہ سے بقول انجیل جب ان پر جبریل نازل ہوا تووہ ایک کبوتر کی شکل میں نازل ہوا (متی باب ۳آیت ۱۶ ) جو ایک کمزور اور نحیف جانور ہے اور بلی بھی اس کوکھا جاتی ہے۔مگر جب وہی جبریل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمپرنازل ہوا تو ایک قوی ہیکل انسان کی صور ت میںنازل ہوا جس نے اپنی پوری طاقت سے رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھینچا۔چنانچہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم غارحراوالے واقعہ کی تفاصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب فرشتہ میرے پاس آیااور میں نے مَااَنَابِقَارِيءٍ کہا تو فَغَطَّنِی حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدَ(بخاری کتاب الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ) اس نے مجھے ایسابھینچاکہ میری مقابلہ کی طاقت بالکل جاتی رہی۔یہ حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والا فرشتہ ایک قوی ہیکل انسان کی صورت میںظاہر ہوا تھا جبکہ مسیح ؑ پر نازل ہونے والا فرشتہ ایک کبوتر کی شکل میں ظاہر ہوا کیونکہ محمد رسول اللہ