تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 479

رہ گیا تھا میںنے چاہا کہ جس قدر جلدی ممکن ہو اسے بھی تقسیم کردوں(بخاری کتاب الزکوة باب من احب تعجیل الصدقة من یومھا) غرض مال ودولت کے باوجود آپ نے ایسی سیرچشمی او ر استغناء ظاہر کی کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے۔جو کچھ آتا آپ خداتعا لیٰ کی را ہ تقسیم کردیتے حالا نکہ گھر کی یہ حالت تھی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیںکہ بعض دفعہ ایک ایک مہینہ تک ہمارے گھروں میںآگ نہیںجلتی تھی ہم اونٹنی کا دودھ پی لیتے یا کھجور یں کھا لیتے تھے یا بعض دفعہ کوئی ہمسایہ دودھ یا کوئی اور چیز بھیج دیتاتو وہ استعمال کرلیتے اور کبھی فاقہ سے ہی رہتے تھے (شمائل ترمذی باب ماجاء فی عیش النبی ) یہ اس زمانہ کی حالت ہے جب کثرت سے دولت آرہی تھی۔غرض آپ نے ہرحالت میںاعلیٰ نمونہ دکھایا آپ کوروپیہ ملامگر پھر بھی آپ نےغربت کو قائم رکھا۔آپ مجرد رہے اور ایسااعلیٰ نمونہ دکھایاکہ دنیاحیران ہے آپ نے پچیس برس کی عمر میںشادی کی جبکہ عرب میںسولہ سترہ برس کا لڑکا پورابالغ ہو جاتا ہے اور اس عمر میں بھی ایک بڑی عمر کی بیوہ کے ساتھ شادی کی۔پھرشادی کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنی ساری دولت آپ کے حوالے کردی جو آپ نے سب سے پہلا کام یہ کیاکہ سب غلاموں کوآزادکردیا۔دشمنوں کے ظلم سہنے میںبھی آپ نے ایسا نمونہ دکھایا جوبے نظیر ہے طائف میںتبلیغ کے لئے تشریف لے گئے تو پتھروں کی بوچھاڑ کی وجہ سے سر سے پائوں تک آپ زخمی ہوگئے مگرایسی حالت میں بھی جب خدا تعالیٰ کا فرشتہ آیا اور اس نے کہاکہ اگر چاہو تو ابھی ان لوگوں کوسزا دے دی جائے تو آپ نے فرمایا نہیں یہ لوگ نادانی سے ایسا کررہے ہیں(بخاری کتاب بدء الخلق باب اذا قال احدکم امین)۔پھر جب کبھی ضرورت پیش آتی آپ فوراً ان دشمنوں کی امداد کرنے کے لئے تیار ہوجاتے جو آپ کی ایذا رسانی پر ہمیشہ کمر بستہ رہتے تھے۔کوئی نہیںجو آپ کے پاس اپنی حاجت لے کرآیا ہو اور آپ نے اس کی حاجت روائی سے انکار کردیا ہو وہ شہر جہاں سے رات کے وقت چھپ کر آپ کو بھاگنا پڑا تھا اس شہر کے شدید ترین معاند جب مغلوب ہونے کے بعد آپ کے سامنے پیش کئے گئے تو آپ نے فرمایا لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم جاؤ آج تم پر کوئی گرفت نہیں (زاد المعاد دخول النبی ؐ و المسلمین مکة)۔میں نے تم سب کو معاف کردیا ہے حالانکہ ان لوگوں میں سے بعض ایسے تھے جنہوں نے آپ کے صحابہ ؓ کو اونٹوں سے باندھ باندھ کر چیر ڈالا۔بعض ایسے تھے جنہوں نے عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر انہیں شہید کر ڈالابعض ایسے تھے جنہوں نے صحابہ ؓ کو جلتی ریت پر لٹالٹا کر انہیں دُکھ دیا اور ان کا جینا دوبھر کردیا (الاستیعاب فی معرفة الاصحاب باب السین سمیة ام عمار بن یاسر و اسد الغابة حرف الباء ،بلال)۔مگر آپ نے ان