تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 478

موقعہ پرلوگ جمع ہوںگے تو عین ممکن ہے کہ آپ ان میں سے بعض کواپنے ساتھ ملالیںتو وہ لوگوںکو آپ سے بدظن کر نے کی تجویزیں سوچنے لگے کسی نے کہا یہ مشہور کردو کہ یہ شاعرہے کسی نے کہا یہ مشہور کردو کہ یہ مجنون ہے۔اتنے میں ایک شخص بولا اور کہنے لگا اس میںگھبراہٹ کی کونسی بات ہے۔ہم کہہ دیں گے کہ یہ جھوٹاہے اس پرانہی میں سے ایک مخالف نضربن الحارث بڑے جوش سے کھڑاہوگیا اور کہنے لگا۔محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے درمیان جوان ہوا، اس کے اخلاق تم سب سے زیادہ اچھے تھے وہ تم سب سے زیادہ راستباز تھا۔وہ تم سب سے زیادہ امین تھا مگر جب تم نے اس کی کنپٹیوں میںسفید بال دیکھے اور وہ تمہارے پاس وہ تعلیم لےکر آیا جس کا تم انکار کررہے ہوتو تم نے کہہ دیا کہ وہ جھوٹاہے خدا کی قسم وہ ہرگز جھوٹانہیں۔(شفاء قاضی عیاض جزء اول صفحہ ۵۱) پھرہم آپ کی زندگی کے اخلاقی پہلو اور غرباء کی امداد کو لیتے ہیںتو اس میں بھی ہمیں آپ کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔مکہ کے بعض اشخاص نے مل کرایک ایسی جماعت بنائی تھی جوغریب لوگوںکے حقوق کی حفاظت کرے اور چونکہ اس کے بانیوں میںسے اکثر کے نام میںفضل آتاتھا اس لئے اسے حلف الفضول کہا جاتاہے۔اس میںآپ بھی شامل ہوئے یہ زما نہ نبوت سے بہت پہلے کی بات ہے۔بعد میںصحابہ ؓ نے ایک دفعہ اس کے متعلق دریافت کیا۔تو آپ نے فرمایا یہ تحریک جو مظلوموں کی امداد اور غرباء کے حقوق کے لئے جاری کی گئی تھی مجھے ایسی پیاری تھی کہ اگر آج بھی مجھے کوئی شخص اس کی طرف بلائے تو میںاس میںشا مل ہونے کے لئے تیار ہوں (السیرة الحلبیة جزء اول باب شہودہ حلف الفضول)۔گویا غرباء کی امداد کے لئے دوسرں کی ماتحتی سے بھی آپ کو کوئی عار نہیںتھا۔پھر آپ نے جب حضرت خدیجہ ؓ سے شادی کی تو اس وقت آپ کے پاس کوئی مال نہ تھا۔بعض لوگوںنے روایت کی ہے کہ آپ کے والد نے چند بکریاں اور ایک دواونٹ آ پ کے لئے چھوڑے تھے (طبقات ابن سعدذکر وفات عبداللہ ابن عبد المطلب) مگر یہ جائیداد ایسی قلیل تھی کہ اس کاہونا نہ ہونابرابر ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامل قوتوںکے ساتھ پیدا فرمایا تھااور آپ صحیح معنوں میںطٰہ ٰکے مصداق تھے اس لئے آپ کی طبیعت میں حرص بالکل نہ تھی اور سیرچشمی کمال کو پہنچی ہوئی تھی یہاںتک کہ آپ کی قوم نے آپ کو امین کا خطاب دے دیااور آپ کی دیانت وامانت کاسکہ تسلیم کرلیا۔ایک دفعہ صدقات کاکچھ روپیہ آیا اور اسے تقسیم کرتے ہوئے ایک دینار کسی کو نے میںگرگیاجسے اٹھانے کاآپ کو خیال نہ رہا۔نماز کے بعد یاد آیا تو لوگوں کے اوپرسے پھاندتے ہوئے آپ جلدی سے اپنے گھر تشریف لے گئے صحابہ ؓ نے دریافت کیا کہ یارسو ل اللہ ! کیابات تھی آپ نے فرمایا اس اس طرح ایک دینار تقسیم کرنے سے