تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 469
پھر موسیٰ کو بتایا گیا کہ اصلاح قوم کاحقیقی ذریعہ صحبت صلحاء ہے (آیت ۱۷ تا ۲۴ ) پھر فرماتا ہے ہم نے موسیٰ ؑ کو اس کی قوم کے لئے صحیح ذریعہ اصلاح بتاکر اسے فرعون کی طرف جانے کاحکم د یا اور اس کے لئے دعا کا طریق سکھایا جو خدا تعالیٰ سے کی جاتی ہے نہ کہ کسی غیر اللہ سے اوراس کے بھائی کو اس کی درخواست پر اس کے ساتھ مقرر کیااور خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ میرا دوسرااحسان ہے۔پہلااحسان وہ تھا کہ فرعونیوں سے بچانے کے لئے تجھے دریا میں ڈالا گیا اورمیں نے تجھے اس سے نجات دلوائی اور تیرے رشتہ داروں کو تیرے پاس جمع کردیا (آیت ۲۵ تا۴۱ ) پھر جب تیری جنگ فرعونی حکومت سے چھڑی تو ہم نے تجھے بچایا اور تجھے نجات دی۔اور میںتیری روحانی پرورش کرتارہا یہاں تک کہ تو اصل کام کے قابل ہوگیا اور ہم نے کہا اب جا اور فرعون کو سمجھا اور اپنی قوم کو اس سے لے کرکنعان کے ملک کی طرف لے جا۔چنانچہ وہ گئے او رفرعون کو سمجھایا (آیت ۴۱ تا۷۷ ) جب فرعون نے نہ مانا توہم نے موسیٰ ؑ کو بنی اسرائیل کے نکال لے جانے کاحکم دے دیا فرعون نے پیچھا کیا مگر سزاپائی (آیت ۷۸ تا۰۸ ) پھرطور پرکلام الٰہی کا سلسلہ شروع ہوا اورشریعت نازل ہوئی اورتوبہ کا دروازہ کھولا گیا (آیت ۸۱ تا۸۳ ) مگر باوجود اس کے بنی اسرائیل نے شرک کیا جس پر ان کو سزاملی اور توحید کی طرف ان کو کھینچ کر لایا گیا۔(آیت ۸۴ تا۹۹) یہ مسیح ؑسے پہلے کے مذہبی حالات ہیںاور بعد میںتوآیا ہے۔توبھی وہی تعلیم لایا ہے۔پھر یہ درمیان میں بے جوڑ تعلیم کیسی آگئی جو شریعت کو لعنت کہتی ہے اور خداکے شریک قرار دیتی ہے۔(آیت ۱۰۰تا ۱۰۳) اس کے بعد مسیحیوں کے عذاب اور ان کی ہزار سالہ ترقی کا ذکر کیا۔یعنی چوتھی صدی ہجری سے چودھویں صدی ہجری تک جس میںسے تین صد اعلیٰ ترقی کے سال ہوںگے۔جس طرح مسلمانوں کے ہزار سال میں تین صد اعلیٰ ترقی کے سال تھے۔اس فرق سے کہ مسلمانوں کے پہلے تین صد اعلیٰ تھے او رمسیحیوںکے آخر ی تین صد اعلیٰ ہوں گے۔اور اس فرق سے کہ عیسائیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے چھ سو سال مذہب کے قیام کے ملے اور مسلمانوںکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سوسال گذرنے کے بعد چھ سوسال اسلام کے روحانی استحکام کے ملیں گے۔(آیت ۱۰۴و۱۰۵) فرماتا ہے اس وقت لوگ سوال کریںگے کہ یہ پہاڑ اڑیںگے کس طرح؟ یعنی یہ عیسائی حکومتیںجو اتنی