تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 463
تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ مسلمانوں کا خدا تعالیٰ نے ایسا ساتھ دیا اور اپنی محبت اور پیار کا ان سے ایسا سلوک کیا کہ جس کی مثال دنیا میںاور کہیںنظر نہیںآتی۔(۳) تیسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں میں بنی نوع انسان کی محبت کیلے کی طرح گاڑدے گا۔حضرت مسیح ؑنے بھی انجیل میں باربار یہی تعلیم دی ہے کہ دوسروں سے محبت کرو اور ان سے نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آئو (متی باب ۵ آیت ۴۳)۔مگر اس محبت کے پیدا کرنے کایہ ذریعہ نہیںکہ مسیح ؑ پر ایمان لایا جائے بلکہ حقیقی محبت بنی نوع انسان کی تب پیدا ہوتی ہے جب انسان خود اپنے آپ کوایک رنگ میں خدا کا بیٹا سمجھ لے۔مسیح کوخدا کا بیٹا سمجھنے سے یہ محبت پیدا نہیںہوسکتی۔یہ محبت تب پیدا ہوتی ہے جب انسان وُد کا مقام حاصل کرلے۔اور جس طرح جانورکیلے کے ذریعہ زمین کے ساتھ باندھ دیاجاتاہے اسی طرح وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ وابستہ ہوجائے جب اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہوجاتی ہے تو اس کے بعد اس کے بندوں کی محبت بھی اس دل میں لازمی طورپر جاگزیں ہوجاتی ہے صرف مسیح پر ایمان لانے سے یہ محبت پید انہیںہوسکتی۔(۴) چوتھے معنے اس کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کے دل میں مسلمانوں کی محبت کیلے کی طرح گاڑدےگا۔یہ بھی محبت کا ایک لازمی نتیجہ ہے کیونکہ جب کسی کی محبت ہوگی تو انسان اس کی خدمت بھی کرے گا اور اس کے ساتھ حسن سلوک بھی کرےگا اور اس سے محبت اور پیار کے ساتھ بھی پیش آئے گا اور جب وہ ایسا کرے گا تو لوگوں کے دلوں میںبھی اس کی محبت پیدا ہوجائے گی پس سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا کے ایک یہ بھی معنے ہیںکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی محبت بنی نوع انسان کے دل میں کیلے کی طرح گاڑدےگا۔چنانچہ اس کی مثال ہمیںرومی فتوحات میںملتی ہے۔ایک موقعہ پر جب عیسائی لشکر بڑی تعداد میںآگے بڑھا اور مسلمانوں نے سمجھا کہ اب ہم ان کامقابلہ نہیںکرسکتے تو جو روپیہ مسلمانوں نے ملک کی حفاظت کے ٹیکس کے طور پر وصول کیا تھا وہ سب ملک کے لوگوں کو واپس کردیا اور اس کااثر عیسائیوں اور یہودیوں پر اتنا ہوا کہ وہ روتے ہوئے مسلمانوں کے لشکر کو وداع کرنے گئے اور پادری بھی اور دوسرے لوگ بھی دعاکرتے جاتے تھے کہ خدامسلمانوں کو واپس لائے۔اور یہودی اتنے متاثر تھے کہ وہ کہتے تھے کہ خدا کی قسم ہم اپنی جانیں دے دیں گے مگر عیسائی لشکر کو شہر میںداخل نہیںہونے دیںگے۔(فتوح البیان ) محبت کا یہ عملی وعظ مسیح ؑکی محبت کی تعلیم سے کتنا زیادہ شاندار ہے۔مسیح ؑ نے تو صرف منہ سے کہا تھا کہ خدامحبت ہے مگر مسلمانوںنے عملاًثابت کیا کہ خدا محبت ہے اور مسیح کےلئے تو رحمت کا لفظ استعمال ہوا تھا مگر قرآن نے مسلمانوں کےلئے ود کا لفظ استعمال کیا جواس سے بہت زیادہ شدید ہے کیونکہ وُدّ کے معنے ہیںکہ