تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 458
تعلیم کی مخالفت کرے گا اورکہے گامیں نے تو ا پنی آنکھوںسے خدا تعالیٰ کے انعامات کو نازل ہوتے دیکھاہے یہ کیا بکواس ہے کہ ایسے انعامات کسی انسان کو حاصل نہیںہوسکتے اور پھر خدااور اس کے ملائکہ بھی ناراض ہوں گے کہ ہم تواپنی نعمتوں سے ا نہیں حصہ دے رہے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو معاف نہیں کرسکتا۔کسی کی توبہ قبول کرکے اسے اپنے قرب میںجگہ نہیں دے سکتاپس آسمان اور زمین اور جبال تینوں اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں گے یعنی آسمانی ہستیاں اس کو ناپسند کریں گی اور ان کے دل پھٹ جائیںگے۔اسی طرح انسان کی فطرت بھی اس کو دیکھ کرچلا اٹھے گی۔وَتَخِرُّالْجِبَالُ ھَدًّا اور پھر اس صدمہ سے جو اعلیٰ درجہ کی روحانی ہستیاں ہیں وہ بھی گھبرا کر کہیں گی کہ یہ کیا ظلم ہو رہا ہے ہمیں ایک چیز ملی ہوئی ہے اور یہ لوگ کہتے ہیںکہ وہ مل ہی نہیں سکتی۔منکرین الہام سے جب بھی میری گفتگو ہوتی ہے میں انہیںکہاکرتاہو ںکہ میںتمہاری دلیلوں کو کیا کروں جبکہ خدا مجھ سے خود ہم کلام ہوتاہے اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر الہامات نازل نہ ہوتے توشاید میںخیال کرلیتاکہ تمہاری دلیلوں میں کچھ وزن ہوگا لیکن اب ان دلائل کا مجھ پر کیا اثر ہو سکتا ہے جبکہ خود مجھ پر الہامات نازل ہوتا ہیں۔مجھے تویہ دلیلیں سنکر ہنسی آتی ہے کہ خداموجود ہے اس کاکلام ہم پرنازل ہوتاہے اوردلائل یہ دئیے جارہے ہیںکہ ایسا نہیںہوسکتا۔پھر جو چیز میںنے دیکھ لی ہے حالانکہ میںمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں سے ہوںاس کے متعلق میں یہ کس طرح تسلیم کرسکتاہوں کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاحضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے نہیںدیکھی ہوگی جب نیچری کہتے ہیںکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیالات عالیہ کانام قرآن ہے(تفسیر القرآن مع تحریر اصول التفسیر از سید احمد خان زیر آیت و ان کنتم فی۔۔البقرۃ :۲۳) توسن کر ہنسی آتی ہے کہ جب ہمیں معین الفاظ میں الہام ہوتے ہیںتو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تو بہت بالا ہے۔آپ پر خدائی الفاظ میں ہی قرآن کیوں نازل نہیں ہوسکتا تھا تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا میں اسی طرف اشارہ کیا گیاہے کہ جواعلیٰ درجہ کے روحانی لوگ ہیں اور جنہوںنے ان تمام انعامات کا مشاہدہ کیا ہوا ہے وہ اس بات کوسن کر ایسا محسوس کریں گے کہ گویا وہ سارے مقامات جو ان کو حاصل ہیں ان کو انہوںنے گرادیاہے۔وَ مَا يَنْۢبَغِيْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ۰۰۹۳ اور (خدائے)رحمن کی شان کے یہ بالکل خلاف ہے کہ وہ کوئی بیٹابنائے۔تفسیر۔عیسائیوںکا عقیدہ ابنیّت خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے بالکل خلاف ہے یہی وجہ ہے کہ