تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 457

گرنے سے آواز پیدا ہو اسے ھدا کہتے ہیں اگر کوئی دیوار آہستگی سے گرجائے اور آواز پیدانہ ہو تو اس کے لئے ھَدًّا کالفظ استعمال نہیں ہوگا۔ھدا کالفظ اسی وقت استعمال ہوگا جب وہ اس زور سے گرے کہ ساتھ ہی آواز بھی پیدا ہو۔تفسیر۔اس آیت میںاللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ شرک کے خلاف آسمانوں کے اندر ایسا جوش پیدا ہوگیا ہے کہ یوں معلوم ہوتاہے وہ اس جوش کی وجہ سے پھٹ جائیںگے اور زمین میں بھی ایسا اندرونی جوش پیدا ہوچکا ہے کہ اس کا سینہ چاک ہو جائے گا اور پہاڑوں پر بھی اس کا اتنا اثر ہے کہ قریب ہے کہ وہ بھی بیتاب ہوکر یکدم گرجائیںاور ان کے گرنے سے ایک شور برپا ہوجائے۔یعنی یہ دعویٰ آسمان اور زمین اور پہاڑوںکے لئے گراں ہے آسمانوں کے لئے اس لئے گراں ہے کہ یہ آسمانی تقاضوں کے خلاف ہے۔صفات الٰہیہ اور ملائکہ کا تصور سب اس کے متباعد ہیں اور زمین بھی اس کے خلاف ہے یعنی فطرت صحیحہ بھی اس کے خلاف ہے اور پہاڑوںکا وجود یعنی ترقی کے جذبات اور احساسات جوفطرت کا ایک اعلیٰ مقام ہے وہ بھی اس کے خلاف ہے۔کیونکہ ابنیت کفار ہ کی مستلزم ہے اور کفارہ انسان کی اعلیٰ درجہ کی ترقیات کے خلاف ہے اور انسان کی پستی پردلالت کرتاہے۔جوکچھ عیسائیت کفارہ اور ابنیت سے ثابت کرتی ہے اسلام اسے انسان کی اعلیٰ ترقیات سے قابل حصول قرار دیتاہے۔پس جِبَالٌ بھی اس کے وجود کے خلاف ہیںگویا آسمان اور زمین اور جبال اپنے مطابق روحانی وجودوں کی طرف اشارہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔او رجہاں بھی انسان کی اعلیٰ ترقیات کے حصول پر اعتراض کیاجائے گا اورجہاں بھی اللہ تعالیٰ کے رحم اور اس کے عفو اور اس کی مہربانی کی صفات کو نظر انداز کیا جائے گا لازماً اس سے آسمان بھی پھٹے گا کیونکہ خدابھی اسے ناپسند کرےگا اور فرشتے بھی اسے ناپسند کریںگے اور زمین بھی پھٹے گی کیونکہ انسان بھی اس کو ناپسند کرےگا اور جبال بھی پھٹیں گے کیونکہ انسانوں میں سے جو اعلیٰ درجہ کے انسان ہیںیعنی خدا تعالیٰ کے انبیاء وہ بھی اس کوناپسند کریںگے۔عام انسان اس تعلیم کواس لئے ناپسند کرے گا کہ وہ کہے گایہ تعلیم میرے لئے ہرقسم کی ترقی کے راستہ کو بند کردیتی ہے۔اعلیٰ انسان اس لئے اس تعلیم کوناپسند کرے گا کہ وہ کہے گا یہ تو میری تجربہ شدہ چیز ہے اورمجھے مل چکی ہے اب یہ کیا کہہ رہے ہیںکہ ایسی ترقی کسی انسان کو حاصل نہیںہوسکتی۔اور اللہ اور اس کے فرشتے اس لئے ناراض ہوںگے کہ ہم تو اپنی نعمتیں ان کودے رہے ہیںاور یہ کہہ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایسا نہیں کرسکتاپس انسان اس کی مخالفت کرے گااور کہے کہ عجیب بات ہے میرے لئے ایک ہی امید کا سہارا تھاوہ بھی اس تعلیم نے توڑ دیا۔اعلیٰ انسان اس