تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 456

تفسیر۔شرک کی انتہائی برائی بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے ایک ایساکام کیا ہے جو فطرت صحیحہ کے خلاف ہے اورجس کے متعلق اپنی ناپسندیدہ گی کے جذبات کے اظہار سے کوئی شریف آدمی رک نہیں سکتا۔یہ کسی فعل کی حددرجہ کی ناپسندیدگی کا ثبوت ہوتاہے کہ اس کے خلا ف ہر انسان بے تحاشا احتجاج کرنے پرتیار ہوجائے اور اسے کسی صورت میں بھی برداشت کرنے پر آمادہ نہ ہو۔اس میں بتایا گیا ہے کہ شرک ایک ایسا فعل ہے جس کو ماننے سے فطرت انکار کرتی ہے اور یہ ایک حقیقت ثابتہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب عیسائیت اسلام کے اعتراضات سے ڈرکر خود تثلیث کے اور معنے کرنے لگ گئی ہے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ تو کہتاہے کہ اس کے خلا ف ہر انسان کو آواز اٹھانی چاہیے مگر اس زمانہ میںجو لوگ اس فتنہ کے خلاف آواز اٹھار ہے ہیں اور خدا تعالیٰ کی توحید کے قیام کے لئے رات دن کو ششیں کررہے ہیں وہی مسلمان کہلانے والوں کی نگاہ میں کافراور بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔وہ عیسائیوں کے ساتھ جو مسیح کو خدا کاشریک قرار دیتے ہیںتو محبت کے ساتھ پیش آتے ہیں مگر جو توحید کے قیام کے لئے عیسائیوں کوتبلیغ کرتے ہیںان کو کافر قرار دیتے ہیں۔تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ قریب ہے کہ (تمہاری بات سے )آسمان پھٹ کر گرجائیں اورزمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے۔او پہاڑریزہ ریزہ الْجِبَالُ هَدًّاۙ۰۰۹۱اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ۰۰۹۲ ہو کر زمین پر جاپڑیں۔اس لئے کہ ان لوگوں نے (خدائے )رحمان کا بیٹاقرار دیا ہے۔حلّ لُغَات۔تَفَطَّرَ کے معنے ہوتے ہیں کسی چیز کااپنے اندر سے ضعف کی وجہ سے ٹوٹ جانا۔چنانچہ تَفَطّرَالشَّیْءُکے معنے ہوتے ہیں۔اِنْشَقَّ وہ چیز پھٹ گئی اور تَفَطَّرَتِ الْاَرْضُ بِالنَّبَاتِ کے معنے ہوتے ہیںتَصَدَّعَتْ یعنی زمین پھٹ کر اندر سے سبزی نکل آئی اور تَفَطَّرَتِ الْقَضِیْبُ کے معنے ہوتے ہیںبَدَءَ نَبَاتُ وَ رَقِہٖ شاخ کے پتے نکلنے شروع ہوگئے (اقرب)گو یا کسی چیز کے اندر سے جب کوئی چیز باہر نکلنی شروع ہوجائے تو اس کیلئے تَفَطَّرَ کا لفظ استعمال کیا جاتاہے۔اس کے معنے یہ ہوتے ہیںکہ وہ چیز آپ ہی آپ پھٹ گئی ہے اورفَطَرَ کے معنی کسی چیز کو نئے سرے سے شروع کرنے کے ہوتے ہیں۔ھَدًّا کے متعلق لغت میںلکھا ہے کہ الْھَدّۃُ صَوْتُ وَقْعِ الْحَائِطِ یعنی دیوار کااس زور سے گرناکہ اس کے