تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 454
چنانچہ حضر ت جابربن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ خصوصیتیں ایسی عطافرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے اور کسی نبی کو نہیں ملیں (۱) مجھے ایسا رعب عطاء فرمایا گیا ہے کہ مہینہ بھر کی مسافت پر بھی دشمن مجھ سے لرزہ براندام رہتاہے۔(۲) میرے لئے زمین کے چپہ چپہ پرخدائے واحد کی عبادت کرنا جائز قرار دیا گیاہے (۳) غنائم کے اموال میرے لئے حلال کئے گئے ہیں (۴)سابق انبیاء صرف اپنی اپنی قوموں کی طرف مبعوث ہوئے تھے مگر مجھے اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔(۵) اور مجھے قیامت کے دن شفاعت کا حق دیا گیا ہے۔(بخاری کتاب الصلوۃ باب قول النبی جعلت لی الارض مسجداو طہورا) اسی طرح حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن جب تمام انبیاء شفاعت سے انکار کریںگے اور میں خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ میں جھکا ہواہوںگا تومجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گاکہ اے محمد رسو ل اللہ سجدہ سے اپنا سر اٹھا اور اللہ تعالیٰ سے مانگ کہ تجھے دیا جائے گا اور اس کے بندوں کی شفاعت کر کہ تیری شفاعت قبول کی جائےگی۔(بخاری کتاب التفسیر سورة بنی اسرائیل باب ذریة من حلمنامع نوح) سورئہ زخرف میں بھی اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شفیع ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَ تَبٰرَكَ الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔وَ لَا يَمْلِكُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ(الزخرف:۸۶،۸۷) یعنی وہ بڑی ہی برکت والی ذات ہے جس کے قبضہ و تصرف میں زمین و آسمان کی بادشاہت ہے۔اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کا بھی وہی بادشاہ ہے اور قیامت کا علم بھی صرف اسی کوحاصل ہے اور تم سب کو اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔اور وہ معبودان باطلہ جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں ہرگز شفاعت کا اختیار نہیںرکھتے۔صرف وہی شفاعت کا حق رکھتاہے جوسچ کی گواہی دے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار اس حقیقت کو اگر وہ غور کریں توخوب سمجھ سکتے ہیں اس آیت سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ شفاعت کا مقام صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوگا۔اور کسی کو نہیںاور یہی بات اس جگہ بیان کی گئی ہے۔