تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 448

ساتھ پیش آئو۔حسن سلوک کرو۔نرمی اور ملاطفت سے کام لومگر اب کہتے ہیںکہ جنگ کرو۔پس اس وقت یہ انہیں ایسی چیز نظر آتی تھی جو عام تعلیم کے خلاف تھی اس لئے جب انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان کی طبیعتوں پرگراں گذرا۔یہ نہیں کہ وہ نافرمانی کرنے کے لئے تیار ہوگئے تھے بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ انہیں یہ عجیب چیز نظر آئی کیونکہ اس میں ان کے لئے بڑی تلخی تھی اور انہیں اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں سے ہی لڑنا پڑتاتھا جن سے لڑنا ان پر طبعاً گراں گذرتا تھا مگر اسی فعل کے نتیجہ میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی اور وہ جنت کی طرف دھکیل دئے گئے۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ قرآن کریم میں صرف مجرموں اور کمزوروں کےلئے نہیں بلکہ مومنوں کے لئے بھی سَاقَ کالفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ سورۃ زمر میں ہے وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا (الزمر:۷۲) اگر سِیْقَ کے معنے زور سے اور دھکیل کر آگے کرنے کے ہیں تو اس کے کیا معنے ہوئے ؟ مفسرین نے تو یہ جواب دیا ہے کہ کفار کے لئے جونُسُوْقُ کا لفظ آیا ہے اس کے معنے کفار کو دھکیل کرلے جانے کے ہیںلیکن مومنوں کے لئے یہ لفظ ان کی سواریوں کودھکیلنے کی مناسبت سے ہے۔یعنی خدا تعالیٰ ان کی آمد کا منتظر ہوگااور فرشتے ان کی سواریوں کو مارمار کر بھگارہے ہوں گے تا کہ جلد پہنچیں۔(تفسیر کبیر لامام رازی زیر آیت زمر ۷۱) میرے نزدیک اس کے دوجواب اور ہیں۔اول تو یہ کہ کفار کی نسبت اس سے پہلے آیا ہے کہ وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا (الزمر:۷۲) پس آگے جوار کے لحاظ سے وہی لفظ مومنوںکی نسبت بھی استعمال کردیا ہے پس اس جگہ اس کے معنے صرف چلانےکے ہیں آگے یاپیچھے کا ذکر نہیں۔اور نہ اہانت عزت کی طرف اشارہ ہے صرف پہلے سیق کی متابعت میں یہ لفظ استعمال کیاگیاہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ کفار کی موجودہ حالت اور مومنوںکی سابق حالت کا اس لفظ سے نقشہ کھینچاگیا ہے کافرعذاب سے بھاگتاہے۔مومن نعمتوں اور آسائشوں سے بچتاہے وہ تو صرف زیارت باری تعالیٰ کا خوہشمند ہوتاہے۔پس مومنوں کی نسبت یہ لفظ رکھ کر بتایا ہے کہ جس طرح کافر تکلیف سے بچتاہے ، مومن آرام کی زندگی سے بچتاہے۔مگر خدا تعالیٰ اسے زبردستی دیتاہے۔یہ ویساہی ہے جیسا کہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اچھا کھانا یا کپڑااستعمال نہیںکرتاجب تک کہ خدا تعالیٰ اپنی ذات کی قسم کھاکرمجھے مجبور نہیں کرتاکہ میں اچھا کھانا کھائوں یا اچھا کپڑا پہنوں (قلائد الجواھر فی مناقب شیخ عبد القادر صفحہ ۳۶ از محمد بن یحیٰ)۔پس مومنوںکے دلوں کی اس کیفیت کا نقشہ کھینچنے کے لئے یہ لفظ استعمال کیاگیاہے۔نہ یہ کہ ظاہری طورپر ان کو دھکیل کر جنت کی طرف لےجایا جائے گا۔