تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 445
نکلیںگے تو انہیںسواریاں دی جائیںگی (قرطبی)۔ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یٰٓااَیُّھا النَّاسُ اِنَّکُمْ لَتُحْشَرُوْنَ اِلٰی ا للہ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا (قرطبی بحوالہبخاری کتاب الانبیاء باب قول اللہ تعالیٰ عزو جل واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا) کہ اے لوگو ! تم کو جب خداکے سامنے اٹھایا جائےگا تو تم ننگے ہوگے اپنے پائوں سے بھی او رننگے ہوگے جسم سے بھی اور بے ختنہ کے ہوگے اب جو بے ختنہ ننگے پائوں اور ننگے بدن ہوں گے ان کے لئے گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار ہو کر جانےکا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بہرحال یہی تسلیم کرناپڑتا ہے کہ وہ پیدل جائیں گے۔چنانچہ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مومن جب خدا تعالیٰ کو مل کرنکلیں گے تو ان کے لئے سواریاں لائی جائیںگی وہ اس حدیث سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ وہ جائیںگے ننگے اور پیدل اور آئیںگے سوار اور ملبوس۔یہاں بھی وہی غلطی کی گئی ہے۔یہ سب محاورے ہیںجن کو ظاہر پر محمول کیا گیا ہے۔وہاں کے لباس اور روح کی سواریاں اس دنیا کی نہیں ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ بعث کے معاًبعد ایک گھبراہٹ ہوگی۔اس کے بعد فوراً مومن سنبھل جائیںگے اور اکرام اور اعزازسے نوازے جائیں گے۔اور حدیث شفاعت سے بھی یہی معلوم ہوتاہے کہ اس وقت لوگ سخت گھبرائے ہوئے ہوںگے مگر آہستہ آہستہ مومنوں کے دلوں میں ایک سکون اور اطمینان پیدا کردیا جائےگا اور انہیں تسلی دی جائےگی(بخاری کتاب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل باب قولہ تعالیٰ ذریة من حملنا مع نوح) اور خداکے ملنے سے مراد اسی طرح ملنا ہے جس طرح ایک محدود شے غیر محدود سے مل سکتی ہے یہ نہیں کہ خداعرش پر بیٹھا ہوا ہوگا اور مومن گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہوکر اس سے ملنے کے لئے جائیں گے اس میں کوئی شبہ نہیںکہ مومن وہاں خدا تعالیٰ سے ملیں گے۔مگر یہ ملاقاتیں اسی طرح کی ہوںگی جس طرح اللہ تعالیٰ کے خاص بندے اسی دنیا میں اس سے ملاقات کیا کرتے ہیںصرف اس قدر فرق ہوگا کہ اگلے جہان میں چونکہ ہمارامادی جسم نہیں ہوگا۔اس لئے وہ ملاقات زیادہ مکمل اورشاندار ہوگی یہ نہیںہوگاکہ اگلے جہان میں خدامحدود ہوجائے۔جب ہم جو محدود ہیں وہاں غیر محدود ہوجائیںگے تو خداجوغیر محدود ہے اس کے متعلق یہ خیال کرلینا کہ وہ محدود ہوجائےگایہ عقل کے بالکل خلاف ہے اگر ہم نے بھی وہاںان جسمانی بندشوںسے آزاد ہوجاناہے تو خدا تعالیٰ کومحدود سمجھ لینا عقل کے صریح خلاف ہے بے شک حُفَاۃً عُرَاۃً کےا لفاظ ایسے ہیں جن سے بظاہر شبہ پڑتا ہے کہ شاید وہاں مومن اسی طرح ملاقات کے لئے جائیںگے جس طرح یہاں پیدل اور سوار بادشاہوں کی ملاقات کے لئے لوگ جایا کرتے ہیں۔مگر یہ شبہ بھی درست نہیں۔رات کو انسان سویا ہوا ہوتاہے۔اس وقت وہ ننگے پائوں ہوتاہے اور پھر کپڑے بھی اس نے