تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 444
کفار کے لئے بھی وہ ہر جگہ ہوتاہے قرآن کریم میںاللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِيْعَةٍ يَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ يَجِدْهُ شَيْـًٔا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ (النور:۴۰)یعنی کافروں کے اعمال سراب کی طرح ہوتے ہیں جیسے کسی وادی میں سراب نظر آئے تو پیاسا آدمی اسے پانی سمجھ لیتا ہے۔مگر جب وہ پانی سمجھ کروہاں جاتاہے تو اسے پانی نہیں ملتالیکن اسے خدانظر آجاتاہے اور وہ اس سے سارا حساب لے لیتا ہے گویا اس کا تباہی اور بربادی کے مقام پر پہنچنا خدا کاملنا قرار دیاگیا ہے۔اسی طرح مومنوں کے متعلق آتاہے کہ جہاں وہ جاتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نظر آجاتاہے جیسے فرماتا ہے فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ(البقرۃ:۱۱۶) جس طرف بھی تم اپنا منہ کرو وہیں تم اللہ تعالیٰ کو موجود پاؤگے یا جیسے قرآن کریم میں ہی ہے ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ (الفتح :۱۱) وہ لوگ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی بیعت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھ کے اوپر ہے۔اب وہ ہاتھ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا مگر اسے خدا نے اپنا ہاتھ قرار دےدیا۔اس میں بھی درحقیقت وہی مضمون بیان کیا گیا ہے کہ مومن جہاں جاتاہے اسے خدا نظر آجاتاہے۔اسی طرح کافر کو بھی خدا نظر آجاتاہے مگر وہ اسے عذاب کی شکل میں نظر آتاہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا وجود کسی خاص جگہ میں محدود نہیں اور پھر وہ مجسم بھی نہیں قرآن کریم میں ہی آتاہے کہ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ (قٓ:۱۷) کہ ہم انسان کی رگ جا ن سے بھی زیادہ قریب ہیں۔پس وہ چیز جو ہمارا احاطہ کئے ہوئے ہے اور جو تجسم سے پاک ہے اور غیر محدود ہے۔اس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ کسی خاص جگہ پر بیٹھاہوا ہوگا اور مومن گھوڑوں پر چڑھ کر اس کی ملاقات کے لئے جارہے ہوںگے بالکل نامعقول بات ہے۔احادیث میںآتاہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت علی ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے تو وفد سوارہی دیکھے ہیں یہ خدا تعالیٰ کی طرف جانے والے وفد کیسے ہوںگے۔یعنی جب بادشاہوں کی طرف ان کی ملاقات کے لئے وفد جاتے ہیں تو گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں نہایت اچھے اور قیمتی لباس پہنے ہوئے ہوتے ہیں اور بڑی شان کے ساتھ جاتے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف جو لوگ وفد کی صورت میں جائیںگے وہ کس طرح جائیںگے ؟ آپ نے فرمایا کہ جنت کے اونٹ ان کی سواری کےلئے لائے جائیںگے۔(قرطبی ) الثعلبی نے اسی روایت کو اس طرح نقل کیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کو مل کرمومن نکلیںگے توان کے لئے سواریاںلائی جائیںگی یعنی پہلے وہ سوار ہو کر نہیںجائیںگے بلکہ پیدل جائیںگے۔لیکن جب ملاقات کرکے