تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 443

تیز اور بال سے زیادہ باریک ہوگا بعض لوگ تو اس پر سے بجلی کی طرح گذر جائیںگے۔بعض ہوا کی سی تیزی اختیار کریں گے اور گذرجائیںگے بعض پرندوں کی طرح اڑتے ہوئے گذر جائیںگے بعض گھوڑوں کی طرح دوڑتے ہوئے گذرجائیںگے بعض گھسٹتے ہوئے لولوں لنگڑوں کی طرح گزر جائیں گے اور کافر اور منافق کٹ کر نیچے گریں گے اور جہنم میںجاپڑیں گے(مستدرک کتاب التفسیر)۔غرض ایک حشر اکٹھا ہوگااور ایک انفرادی ہوگا یہ آیت اجتماعی حشر پردلالت کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ صرف انفرادی بعث ہی نہیں بلکہ ایک اجتماعی بعث بھی مقدر ہے۔نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًا کے متعلق مفسرین نے بحث کی ہے کہ کیا وہ جنت کی طرف جائیںگے یا اللہ تعالیٰ کی طرف۔بعض نے کہا ہے کہ جنت کی طرف اور چونکہ وہ خدا تعالیٰ کا گھر ہے اس لئے اِلٰی الرَّحْمٰنِ کے الفاظ استعمال کرلئے گئے ہیں اور مراد یہ ہے کہ جو جنت کی طرف گئے وہ ایسے ہی ہیں۔گویا وہ خدا تعالیٰ کی طرف گئے اور اس کی مثال میں وہ سورئہ صافات میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول پیش کرتے ہیںکہ وَ قَالَ اِنِّيْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ(الصفت:۱۰۰) حضرت ابراہیم علیہ السلام کنعان کی طرف ہجرت کرکے جاتے ہیںمگر کہتے یہ ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف جارہا ہوںکیونکہ وہ مقام خدا نے ان کے لئے چنا تھا جس طرح خدا تعالیٰ کے منتخب کردہ مقام کی طرف ہجرت کرکے جانے پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہاکہ اِنِّيْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيْ اسی طرح ان کے جنت کی طرف جانے کو نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًا کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔اسی طرح حدیث بخاری میں آتاہے کہ مَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہُ اِلی اللہِ وَ رَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہ اِلَی اللہِ وَ رَسُوْلِہٖ (بخاری کتاب الایمان والنذور باب النیۃ فی الایمان) یعنی جس کی ہجرت اللہ اور رسول کی طرف ہے وہ اللہ اور رسول کی طرف جاتاہےحالانکہ درحقیقت وہ مدینہ کی طرف گیا ہوتاہے۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ کسی موعود مقام یا چنے ہوئے مقام کی طرف جانا بھی خدا کی طرف جانا کہلاتاہے پس وہ کہتے ہیں کہ درحقیقت اس کے معنے جنت کی طرف جانے کے ہیں(تفسیر قرطبی زیر آیت ھذا و تفسیر بغوی)۔مگر چونکہ وہ خدا کا گھر ہے اس لئے ان کاجنت کی طرف جاناگویا خدا کی طرف جانا ہوگا۔بعض نے کہاہے کہ نہیںوہ خدا تعالیٰ کی طرف ہی جائیںگے بعض احادیث میں یہ آتاہے کہ پہلے وہ خدا تعالیٰ کی طرف جائیںگے اور پھر جنت کی طرف (ترمذی کتاب صفة الجنة باب ما جاء فی خلود اہل الجنة اھل النار)۔یہ سب اختلاف اس وجہ سے ہے کہ خدا تعالیٰ کو مجسم مانا گیا ہے اور پھر اسے ایک مقام میں محدود کیا گیا ہے۔آیات قرآنیہ اور احادیث دونوں سے ظاہر ہوتاہے کہ خدا تعالیٰ ہر جگہ ہے۔مدینہ کو ہجرت ہو تو وہ مدینہ میںہے۔حبشہ کو ہجرت ہو تو وہ حبشہ میں ہے اور خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندے جہاں جائیںوہیں خدا تعالیٰ موجود ہوتاہے بلکہ