تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 437
فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ۰۰۸۵ پس تو ان کے خلاف جلدی میںکوئی قدم نہ اٹھا ہم نے ان کی تباہی کے دن گن رکھے ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے جب حالات یہ ہیں تو تم کو کیا ضرورت ہے کہ تم ان کی سزا کے متعلق سکیمیں سوچو اور ان کے خلاف مختلف قسم کی تدابیر عمل میں لائو۔ہماری ہدایت تمہیں یہی ہے کہ لَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ تم ان کے خلاف اپنے ارادوں میں یا ان کے خلاف اپنے حملوں میں یا ان کے خلاف اپنی تدبیروں میں یا ان کے خلاف اپنی دعائوں میں ہرگز جلدی نہ کرو اور چونکہ اس جگہ کسی خاص بات کی تعیین نہیںکی گئی۔اس لئے جتنی باتیںدوسروں کے خلاف کی جاسکتی ہیں وہ ساری کی ساری اس جگہ مراد ہوسکتی ہیں۔اس جگہ تدبیریں بھی مراد ہو سکتی ہیں خیالات بھی مراد ہوسکتے ہیں غم وغصہ اور رنج کے جذبات بھی مراد ہوسکتے ہیں۔دعائیں بھی مراد ہوسکتی ہیں ا ن سب باتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ تم کسی قسم کی تدبیر میں بھی ان کے خلاف جلد بازی مت کرو۔کیوں ؟ اس لئے کہ پہلی آیت بتارہی ہے کہ خدا نے ان پر شیطانوں کو چھوڑا ہوا ہے۔خدامیں طاقت تھی کہ جب وہ حملہ آور ہوتے تواپنے بندوں کو ان کے حملہ سے بچالیتا۔خدامیں طاقت تھی کہ وہ ان کے حملوں کوناکام کردیتامگر وہ خدا جس کی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ جب شیطان حملہ کرنے کےلئے آتاہے تو وہ اس حملہ کامقابلہ کرنے کے لئے شیطان اور بندہ کے درمیان آکر کھڑا ہوتاہے جب اس نے اپنے آپ کودرمیان سے نکال لیا ہے تو معلوم ہوا کہ اس میںکوئی خدائی حکمت ہے۔اور جب خدائی حکمت ایک اور بات کا تقاضا کرتی ہے تومومن کی شان کے خلاف ہے کہ وہ اسی چیز کے مقابلہ کے لئے کھڑاہوجائے جسے خدائی مشیت کے ماتحت ڈھیل دی جارہی ہے۔مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیںکہ دشمنانِ اسلام کے خلاف کسی قسم کی تدبیریں کرناجائز نہیں۔یہ مطلب بھی نہیں کہ سچائی سے عناد رکھنے والوں کے خلاف کسی قسم کے جذبات غیرت جوش میںنہیںآنے چاہئیں۔اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اگر کوئی جماعت اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں کررہی ہوتو تم اس کی کوششوں کو باطل کرنے کے لئے کوئی جائز تدبیر نہ کرو۔بلکہ صرف اس چیز کا مقابلہ کرنے سے روکاہے جس کا ذکر پہلی آیت میں آچکا ہے۔اَلَمْ تَرَکہہ کراللہ تعالیٰ نے بتایاتھا کہ حالات ظاہر ہیں اوراگر تم غورکرو توتم سمجھ سکتے ہو کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ الٰہی مشیت کے ماتحت ہورہا ہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ اگر کوئی بات ایسی ہو کہ ہمیں یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ اس کے متعلق خدائی تدبیر کیا ہے یاوہ کوئی ایسا واقعہ ہو جو قانون قدرت کے عام قوانین کے ماتحت ہے تواس وقت ہمیں