تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 40

یعنی اے انسان تو اپنے اعلیٰ رب کی تسبیح کر۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیونکر معلوم ہوا کہ تیرا رب اعلیٰ ہے۔اس کے جواب میں فرماتا ہے الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى اس نے انسان کو پیدا کیا اور پھر اسے ہر قسم کے عیب سے پاک بنایا وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى پھر اس نے انسان کی طاقتوں کا ایک معیارمقرر فرمایا کیا کہ اس حد تک انسان ترقی کر سکتا ہے فَھَدٰی اور پھر بتایا کہ اس اس مقام تک پہنچنے کی یہ یہ ترکیب ہے۔یعنی اگر ادنیٰ مومن بننا چاہتے ہو تو یہ یہ تدبیر ہے اعلیٰ مومن بننا چاہتے ہو تو یہ یہ کام کرو شہید اور صدیق بننا چاہتے ہو تو اس اس طرح کرو۔گویا قَدَّرَ فَهَدٰى میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے مختلف روحانی گریڈ مقرر کر کے ساتھ ہی طریقے بھی بتادئیے کہ اس اس طرح عمل کرو گے تو ان گریڈوں کو حاصل کر لو گے۔درحقیقت اَلَّذِيْ خَلَقَ کے معنے اَلَّذِیْ خَلَقَ الْاِنْسَانَ کے ہیں۔کیونکہ آگے ساری باتیں وہ بیان کی گئی ہیں جو انسان سے تعلق رکھتی ہیں مثلاً ہدایت کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ واضح بات ہے کہ ہدایت درختوں کے لئے نہیں ہوتی۔جانوروں کے لئے نہیں بلکہ انسانوں کے لئے ہوتی ہے پس فرماتا ہے تم اپنے اندازہ سے یہ معلوم نہیں کر سکتے کہ خدا تعالیٰ کا قانون انسان کے متعلق کیا ہے اور دوسری مخلوق کے متعلق کیا ہے۔تم کھیتیوں اورسبزیوں ترکاریوں کو دیکھو وَ الَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۔فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰى۔تمہیں دکھائی دے گاکہ ایک وقت کے بعد وہ بالکل بے کار اور سیاہ ہو جاتی ہیں اور ان کی کوئی چیز بھی باقی نہیں رہتی لیکن اس کے مقابلہ میں انسان آتا ہے تو انسانوں کی اچھی چیزیں یعنی ان کا مغز اور روحانیت قائم رہتی ہے۔پچھلے سال کے پھل سے ہم فائدہ نہیں اٹھا سکتے لیکن آدم کی تعلیم آج تک قائم ہے نوح کی تعلیم آج تک قائم ہے ابراہیم کی تعلیم آج تک قائم ہے۔موسیٰ ؑ کی تعلیم آج تک قائم ہے معلوم ہوا کہ اس جگہ اور قانون ہے اور اس جگہ اور قانون ہے اگر یہ گندی چیز ہوتی تو اس کے قائم رکھنے کے معنے کیا تھے اورضرورت کیا تھی کہ اسے ہزاروں تک زندہ رکھاجاتا؟ پھر فرماتا ہےسَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى۔آدم ؑاور نوح ؑاور ابراہیمؑ اور موسیٰ ؑکی تعلیم کے متعلق تو لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں کیا پتہ انہوں نے یہی تعلیم دی تھی یا کچھ اور دی تھی اب ہم تجھے بتاتے ہیں کہسَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى ہم تجھ کو ایک سبق پڑھائیں گے جو تو کبھی نہیں بھولے گا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ سوائے اس کے کہ کسی حکم کے متعلق خدا تعالیٰ خود کہہ دے کہ یہ عارضی ہے اور اسے بعد میں منسوخ کر دے جیسے پہلے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جاتی تھی۔لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دے دیا(بخاری کتاب الصلوة باب التوجہ نحوالقبلة) اس قسم کے عارضی احکام کے سوا ہم تجھ کو ایک ایسی تعلیم دینے والے ہیں فَلَا تَنْسٰۤى جسے تو بھولے گا نہیں۔اس جگہ مخاطب صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ تمام