تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 433
یہ ہوںگے کہ وہ معبود اس دن مشرکوں کے خلاف خدا تعالیٰ کے معاون ہوجائیںگے یا اس دن مشرک اپنے معبودوں کے خلاف خدا تعالیٰ کے معاون ہوجائیںگے۔یعنی اس دن معبودان باطلہ او رمشرک جہاں ایک دوسرے کے مخالف ہوجائیںگے وہاں وہ دونوں سچائی اور راستی کے معاون بھی ہوجائیں گے۔مشرک کہیں گے کہ ہم معبودوں کی عبادت نہیں کرتے اور معبود کہیں گے کہ مشرک ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔اس جگہ ایک اور امر بھی یادرکھنا چاہیے اوروہ یہ کہ يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا میں ضد کا لفظ جمع ہونا چاہیے تھا مگر آیا مفرد ہے۔اس میں حکمت یہ ہے کہ مفرد کا لفظ استعمال کرکے اللہ تعالیٰ نے ان کے کمال اتحاد کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ گو وہ مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے ہوں گے مگر اس معاملہ میں ان کا اختلاف با لکل ختم ہوجائے گا اور وہ یک زبان ہوکر کہیں گے کہ ہمارا ان معبودان باطلہ سے کوئی تعلق نہیں۔اور معبودان باطلہ بھی یک زبان ہوکر کہیںگے کہ ہمار ان مشرکوںسے کوئی تعلق نہیں۔یعنی اس دن اس قسم کی حالت ہوگی کہ اس دن کی سختی کو دیکھ کر اور اس دن کی مایوسی کو دیکھ کر اور اس دن کے خطرات کو دیکھ کر مشرک بھی فرد واحد کی طرح یک زبان ہوکر کہیںگے کہ ہم ان معبودان باطلہ سے بیزار ہیں اور معبودان باطلہ بھی یک زبان ہوکر فرد واحد کی طرح کہیںگے کہ ہم ان مشرکوںسے بیزار ہیں۔گویااس امر کے اظہار کے لئے کہ باوجود لاکھوںاور کروڑوںہونے کے وہ فرد واحد کی طرح متفقہ طور پر غیر اللہ کی عبادت کا انکار کریں گے۔جمع کی بجائے مفرد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مشرک بھی انکار کرکے اپنی جان بچاناچاہیںگے اور معبودان باطلہ بھی انکار کرکے اپنی جان بچانا چاہیںگے (املاء مامن بہ الرحمن زیر آیت ھذا) یہ عربی زبان کی کتنی بڑی خوبی ہے کہ اس تھوڑے سے فرق سے کہ جمع کی جگہ مفرد کا لفظ استعمال کیا گیاہے ایک وسیع مضمون اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بیان کردیاہے اورنہ صرف یہ بتایا ہے کہ یہ بت جن کو وہ اپنے لئے عزت کاموجب سمجھ رہے ہیں ان کےلئے ذلت کاموجب ہوںگے بلکہ اس میں ان کی بے بسی بھی بیان کردی گئی ہے۔خطرہ کی سختی بھی بیان کردی گئی ہے اور یہ بھی بیان کردیا گیا ہے کہ خطرہ اس وقت اتنا قریب پہنچ چکا ہوگا کہ انہیں سوچنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوگی معبودان باطلہ کے دماغ بھی ایک ہی نتیجہ پر پہنچیں گے اور مشرکوں کے دماغ بھی ایک ہی نتیجہ پرپہنچیں گے اور وہ بغیر سوچنے اور غور کرنے کے اور بغیر کسی قسم کا مشورہ کرنے کے یک زبا ن ہو کر ان کی عبادت سے انکار کردیں گے اور سمجھیں گے کہ یہی ایک راستہ ہے جس پرچل کرہم بچ سکتے ہیں۔غرض بتایا کہ اس وقت خطرہ سخت ہوگا بے بسی انتہاء درجہ کی ہوگی اورمشرک بھی اور معبود ان باطلہ بھی سوائے