تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 428

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ۰۰۸۲ اوران لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا چھوڑے ہیں اس امید سے کہ وہ ان لوگو ںکےلئے عزت کا موجب بنیں (گے)۔حل لغات۔اَلْعِزُّ خَلَافُ الذُّلِّ (اقرب الموارد)عزت کا لفظ ہمیشہ ذلت کے مقابل میں استعمال ہوتاہے۔پس ذلت کے مقابل جو چیز ہے اسے عزت کہا جائے گا۔تفسیر۔بت پرستوں کی تاریخ سے معلوم ہوتاہے کہ بت بنانےکی ایک بڑی وجہ لوگوں میں عزت اور شہرت حاصل کرنے کی تمنا ہوا کرتی تھی وہ لوگ بڑے بڑے بت بناتے تھے جیسے مصریوں نے ابوالہول بنایا سینکڑوں فٹ اونچاہے اور ساری دنیا میں اس کی شہرت ہے۔دور دور سے لوگ آتے اور اس کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔گویا خالی بت نہیں بلکہ وہ ایسی شان کا بت بناتے تھے کہ اس کی طرف خود بخود توجہ پھر جاتی تھی اورلوگ کہتے تھے کہ فلاں بت بڑا عظیم الشان ہے یا ان کے ایسے ایسے شاندار معبد بناتے تھے کہ دیکھنے والے دیکھتے اور حیران ہوکر رہ جاتے۔پھر ان بتوں پر میلے کئے جاتے۔ہزاروں ہزارروپیہ خرچ کیا جاتا اوروہ اپنے ہمسایوں پر فخر کرتے کہ ہم نے کتنا بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔مثلا ً سومنات کا بت بنایا اور اس پر لاکھوں روپیہ خرچ کردیا۔اب ایک دیکھنے والا جب بت کو دیکھتاہے کہ اس کی آنکھیں ہیرے کی ہیں۔اس کے سر پر تاج ہے۔اس کے ہاتھ میں سونے کاگرز ہے اور اس کاقد اتنا بڑاہے کہ سر چھت سے لگاہوا ہے تو وہ مرعوب ہو جاتا ہے اور سمجھتاہے کہ جتنا سونا اور چاندی اور ہیرے اور جواہر اس بت کے پاس ہیں اتنی دولت تو میری سات پشتوں کے پاس بھی نہیں ہوسکتی پس اس پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔اور بت بنانے والوں کی عظمت کا اسے قائل ہونا پڑتا ہے۔پس چونکہ بت پرست بڑے بڑے بت بناتے تھے اور پھر اپنے ہمسایوں پر فخر کرتے تھے کہ ہم نے اتنا روپیہ خر چ کیا ہے اور جتنا زیادہ وہ روپیہ خرچ کرتے تھے اتنی ہی ان کی عزت بڑھتی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا فرما کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ خداکے بنانے پر توان کو کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتاکیونکہ وہ ازل سے موجود ہے۔یہ لوگ صرف اپنی عزت او ر شہرت کےلئے بڑے بڑے بت بناتے ہیں ان پر سونا اور چاندی اور ہیرے اور جواہرات خرچ کرتے ہیںاور ان کے بڑے بڑے معبد بناتے ہیں تاکہ لوگوں میں فخر کر سکیںکہ ہمارا معبد اتنا شاندار ہے ہمارا بت اتنا بڑا ہے اور ہم نے اس پر اتنا روپیہ خرچ کیاہے۔اس کے مقابلہ میں اسلامی مساجد کو