تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 39
ہیں نفس کو اور اس کے بغیر افراط و تفریط کے اعلیٰ درجہ کی قوتوں کے ساتھ پیدا کئے جانے کو۔فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَاجب ہم نے اسے پیدا کر دیا تو اس کے بعد ہم نے اس نفس کو الہام کیا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا کہ فجور کیا ہے یعنی کن باتوں سے تو راستہ سے ادھر ہو سکتا ہے وَ تَقْوٰىهَا اور کون سے ایسے راستے ہیں جن پر چل کر تو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا ہے اس آیت سے ایک تو یہ پتہ لگا کہ اللہ تعالیٰ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ انسانی نفس میں تسو یہ پایا جاتا ہے کجی نہیں پائی جاتی نیکی پائی جاتی ہے بدی نہیں پائی جاتی۔دوسرے نہ صرف اپنی ذات میں اس میں درستی پائی جاتی ہے بلکہ اس میں نیکی اور بدی کا ایک احساس بھی پایا جاتا ہے یعنی ہم نے اس کے اندر ایک کانشنس رکھی ہے جو پہچانتی ہے کہ کونسا اچھا راستہ ہے اور کونسا برا۔مثلاً ایک سوٹی جسے چھیل کر صاف کر لیا گیا ہو اسے یہ پتہ نہیں ہوتا کہ میں صاف ہوں۔لیکن انسان کو پتہ ہوتا ہے کہ میرے اندر فلاں خوبی پائی جاتی ہے یا مثلاً یوں سمجھ لو کہ ایک انسان جس کی جیب میں روپیہ ہو ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ آدمی بے پیسہ کے نہیں لیکن اگر اس کو پتہ نہیں کہ میری جیب میں روپیہ پڑا ہوا ہے تو وہ اس کو استعمال نہیں کر سکے گا۔یہاں بھی دو باتیں بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ ہم نے انسان کو ہر قسم کی کجی سے پاک بنایا ہے اور دوسرے یہ کہ صرف پاک ہی نہیں بنایا بلکہ اسے یہ بھی بتا دیا ہے کہ تیرے اندر یہ یہ باتیں خرابی کی ہوں گی اور یہ یہ باتیں نیکی کی ہوں گی۔گویا وہ صرف پاک ہی نہیں بلکہ وہ اس بات سے بھی واقف ہے کہ میرے اندر جو قوتیں پائی جاتی ہیں میں نے ان کو اس اس طرح استعمال کرنا ہے اور اس کے اندر ایک کانشنس ہے جو پہچانتی ہے کہ اگر میں نے اس طرح کیا تو میرا یہ فعل بدی ہوگا اور اگر اس طرح کیا تو میرا فعل نیکی ہوگا۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۔وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا کی آیت میں مضمون کو اور بھی واضح کر دیا۔کہ وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اس کو پاک رکھا یعنی اس کے اندر خدا تعالیٰ نے خرابیاں پیدا نہیں کیں۔پس جو شخص اس کے تزکیہ کو قائم رکھتا ہے اور اسے خراب نہیں ہونے دیتا وہ بڑا کامیاب انسان ہے۔وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا اور جو اس کی پاکیزگی کو مسل ڈالتا اور اس کی نیکی کو اپنے پائوں سے کچل ڈالتا ہے وہ سخت ناکام اور نامراد ہو گا۔(۴)پھر فرماتا ہے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى۔الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى۔وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى۔وَ الَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۔فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰى۔سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى۔اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا يَخْفٰى۔وَ نُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرٰى۔فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى۔سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى۔وَ يَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى۔الَّذِيْ يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰى ( الاعلیٰ:۲ تا ۱۳)