تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 424
ہوا ہے۔سَنَكْتُبُ مَا يَقُوْلُ ہم ضرور وہ بات لکھ لیں گے جو یہ کہہ رہے ہیں۔اور وہ کہتے یہ ہیں کہ لَاُوْتِیَیَّنَ مَالًا وَّ وَلَدًا ہمیں مال بھی ملے گا اور ہمیں اولاد بھی ملے گی۔ان کایہ قول معاف نہیں ہوگا بلکہ ان کا حساب لینے کے لئے اسے یاد رکھا جائے گا اور ہم اس بات کو کبھی بھولیں گے نہیںکہ انہوں نے ہمارے بندوں کے سامنے یہ دعویٰ کیا تھا۔اور اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے بندوں کے سامنے ہی ان کو جھوٹاثابت کریں۔وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا اور جس طرح ہم نے ان کے آرام کی مدت لمبی کردی اور انہوںنے مومنوں کو طعنہ دیا کہ ہمیں طاقت اور شوکت حاصل ہے اور تم ہمارے مقابلہ میں بالکل کمزور اور ذلیل ہو۔اسی طرح اب ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے عذاب کو بھی لمبا کریں۔ہم نے انہیں ایک لمبی مہلت دے کر اپنے مومن بندوںکو لمبے عرصہ تک شرمندہ کروایا اور وہ کمزوروں اور ناطاقتوں کی طرح ان کے سامنے کھڑے رہے۔پس چونکہ ہم نے ہی ان لوگوں کو مہلت دے کر اپنے مومن بندوں کو شرمندہ کروایا تھا اور اسلام پر لوگوں کے لئے اعتراض کا موقع پیدا ہوا تھا اس لئے اب ہمارا ہی فرض ہے کہ ہم اس کے بدلہ میں ان کے عذاب کو بھی لمبا کریں تاکہ مومن کو یہ تسلی ہوکہ میرا بھی کوئی ہمدرد اور نگران ہے۔وَّ نَرِثُهٗ مَا يَقُوْلُ وَ يَاْتِيْنَا فَرْدًا۰۰۸۱ اور جس (چیز)پروہ فخر کررہا ہے اس کے ہم وارث ہوجائیں گے اور وہ ہمارے پاس اکیلا ہی آئے گا۔تفسیر۔مَا يَقُوْلُ کی تشریح پہلی آیت میں موجود ہے۔فرماتا ہے وقال لَاُوْتِیَیَّنَ مَالًا وَّ وَلَدًا وہ کہتاہے کہ مجھے مال بھی ملے گا اور اولاد بھی ملے گی۔یہ دعویٰ تھا جو اس نے لوگوں کے سامنے کیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ نَرِثُهٗ مَا يَقُوْلُ یعنی نَرِثُ مِنْہُ مَا یَقُوْل جو کچھ وہ کہا کرتا تھااس کے ہم وارث ہوجائیں گے یعنی وہ مال جو اس کوحاصل ہے اور وہ اولاد جس کی وجہ سے وہ دعوے کررہا ہے ہم یہ دونوں چیزیں اس سے چھین لیں گے۔اسی طرح پہلی آیات میںیہ گذر چکا ہے کہ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤااَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِيًّا یعنی کافر مومنوں سے یہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں بتائو کہ مال اور دولت اور عزت اور رتبہ کس کو حاصل ہے اگر یہ چیز یں ہمیں حاصل ہیںتمہیں حاصل نہیں تو ہم دونوں میں سے کون اچھا ہوا پس مَا يَقُوْلُ سےمراد مال اور عزت اور رتبہ اور اولاد ہے۔فرماتا ہے ہم ان چیزوں میںاس کے وارث ہوجائیںگے یعنی ان سے مال بھی چھین لیں گے۔