تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 421
کرتا تھا مگر قادیان سے ہجرت کے بعد متواترکئی ممالک سے لوگوں نے یہاں تعلیم کے لئے آنا شروع کردیا۔اب بھی دس بارہ غیر ممالک کے لوگ یہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ابھی کئی لوگوںکی چٹھیاں آتی رہتی ہیں کہ ہمیں بھی وہاں آنے کی اجازت دی جائے مگربوجہ مالی تنگی کے ان کی درخواستوں کو رد کرنا پڑتا ہے اسی طرح قادیان میں ہمارے بہت تھوڑے مشن تھے مگر اب کئی نئے ممالک میں مبلغین بھجوائے جاچکے ہیں اور کثرت سے لوگ احمدیت سے روشناس ہورہے ہیں۔اسی طرح قادیان کے بجٹ سے اب ہمارا یہاں کا بجٹ بھی بڑھ گیا ہے۔غرض سلسلہ کے تمام کاموں میںجس قدر ترقی اور زیادتی ہوئی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔یہی حقیقت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ ہم مومنوںکو ترقی دیتے چلے جاتے ہیںیہ نہیںکہ انہیں صدمات نہیںپہنچتے صدمات ان کوبھی پہنچیںگے مگر جس وقت مخالفت کے بادل چھٹیں گے دشمنِ صداقت کمزور نظر آئے گا اور مومن پہلے سے زیادہ مضبوط ہوجائےگا۔وَ الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَيْرٌ مَّرَدًّا اور باقی رہنے والی نیک باتیں ہی تیرے رب کے نزدیک سب سے اچھی ہیں یعنی انسان کے وہ اعمال جو خدا تعالیٰ کے حضور مقبول ہوجائیں وہی اس کا حقیقی سرمایہ ہیں یایوں سمجھ لو کہ باقیات الصالحات وہ چیزیں ہیں جو خدا تعالیٰ کے خزانہ میںچلی گئیں۔حضرت مسیح ؑ نے کہا ہے کہ ’’اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتاہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کر و۔جہاں نہ کیڑا خراب کرتاہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں ‘‘ ( متی باب ۶آیت ۱۹۔۲۰) پس چونکہ حضرت مسیح نے اپنی قوم سے یہی کہا کہ اپنے لئے زمین پر مال جمع نہ کرو بلکہ آسمان پر مال جمع کرو۔اس لئے اللہ تعالیٰ عیسائیوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتاہے کہ تم اپنی جس قدر طاقتیں پیش کرتے ہو وہ اسی زمین سے تعلق رکھنے والی ہیں۔تمہاراایٹم بم بھی اسی دنیا کاہے۔تمہاری توپیں بھی اسی دنیاکی ہیں۔تمہارے گولے بھی اسی دنیا کے ہیں۔تمہاری تجارتیں بھی اسی دنیا کی ہیں۔تمہارے جتھے بھی اسی دنیا کے ہیں مگر مومن جن کے متعلق تم کہتے ہو کہ وہ کمزور اور ناطاقت ہیں ان کا بینک آسمان پر کھلاہواہے۔کیا مسیح ؑ کی بات تمہیں یاد نہیں رہی کہ جو چیز آسمان پر ہے وہی محفوظ ہے اور جو زمین پر ہے وہ غیر محفوظ ہے۔ان کی باقیات الصالحات خدا کے بینک میں ہیں جس کا دیوالہ نہیںنکل سکتا۔اور وہ بہت بہترہیںثواب کے لحاظ سے بھی اور پھر واپسی کے لحاظ سے بھی۔یعنی اصل مال بھی انہیں وہیں سے ملے گا اور ثواب بھی وہیں سے ملے گا یایوں کہو کہ مول بھی وہیں سے ملے گااور بیاج بھی وہیں سے ملے گا