تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 412
مدد کررہی ہے۔پھر آیتیں دنیا میں ایسی بھی ہوتی ہیں جو نشان توہوتی ہیں لیکن وہ اپنی غر ض وغایت بیان نہیںکرتیں لیکن فرماتا ہے یہ وہ آیات ہیںجوبیّنات ہیں یعنی نہ صرف کسی مقصد کو اپنے سامنے رکھتی ہیں بلکہ اس مقصد کو کھول کر بیان بھی کرتی ہیں اور یہ بھی بتاتی ہیںکہ وہ نشان اپنی ذات میں کیوں ظاہر ہوگا گویا وہ کوئی بے معنی کام نہیں ہوتا۔بلکہ جو بھی نشان آتاہے وہ نہ صرف خدااور اس کے انبیا ء وغیرہ کے لئے ثبوت ہوتاہے بلکہ خود اپنی ذات میں بھی موقع کے مناسب اور برمحل ہوتاہے۔پس آیت بینّہ وہ ہے جو (۱) کسی اعلیٰ شئے کو دکھانے اور قریب کرنےکے لئے ظاہر ہو۔اور۔(۲) وہ بے معنی نہ ہو بلکہ موقع کی مناسبت ہو اور کسی مفید مقصد کے لئے ظاہر ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک دفعہ لدھیانہ تشریف لے گئے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے خسرصوفی احمد جان صاحب جو ایک مشہور پیر اور بزرگ انسان تھے اور جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’براہین احمدیہ ‘‘ بھی پڑھی ہوئی تھی۔انہوں نے جب آپ کی تشریف آوری کی خبر سنی تو بڑے خوش ہوئے اور اپنے ایک مرید سے جوکابل کے شہزادوں میں سے تھے آپ کی دعوت کروائی۔حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام ان کے مکان پر تشریف لے گئے اور جب کھانے سے فارغ ہوئے تو صوفی صاحب آپ کو مکان تک پہنچانے کے لئے آپ کے ساتھ ہی چل پڑے۔صوفی احمد جان صاحب رتر چھتّر والوں کے مرید تھے (رتّر چھتّر گورداسپور کے علاقہ میں ہے ) حضر ت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے راستہ میں دریافت فرمایا کہ صوفی صاحب سنا ہے رتّر چھتّر والوں کی آپ نے بارہ سال تک خدمت کی ہے کیا آپ بتاسکتے ہیںکہ آپ نے ان کی صحبت سے کیا فیض حاصل کیا ؟ انہوں نے کہا حضور! وہ بڑے بزرگ اور باخدا انسان تھے۔میں بارہ سال ان کی صحبت میں رہااور بڑا فائدہ حاصل کیا۔پھر انہوں نے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا جو ان کے پیچھے آرہا تھا اور کہاحضور! ان کی برکت سے اب مجھ میں اتنی طاقت پید اہوچکی ہے کہ اگر میں اس شخص کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھوں تو فوراً زمین پر گرپڑے اور تڑپنے لگ جائے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام یہ سنتے ہی کھڑے ہوگئے۔تھوڑی دیر خاموش رہے اورپھر اس سوٹی کوجوآپ کے ہاتھ میں تھی زمین پر رگڑتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ میاں صاحب پھر اس کا آپ کو کیا فائدہ پہنچا اور اگر ایسا ہوجائے تو اس شخص کو کیا فائدہ پہنچے گا(تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ ۴۹ تا ۵۳) وہ چونکہ اہل اللہ میں سے تھے اس لئے آپ نے ابھی اتنا ہی فقرہ کہا تھا کہ و ہ فوراً سمجھ گئے اور کہنے لگے حضور میں وعدہ کرتاہوں کہ آئندہ میں ایسا نہیں