تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 410

دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنی شہرت کے لئے دوسروں کی خوبیاں بھی اپنی طرف منسوب کرلیتے ہیں۔کتاب پڑھیں گے اور اس کے مضامین اپنے نام پر شائع کرنے شروع کردیں گے مصنف کہیں بیٹھا ہوا ہوتاہے اور اس کی محنت اپنی طرف منسوب کرناشروع کردیتے ہیںبلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی اچھا کام ہو لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے اپنی طرف منسوب کرلیں۔ہمارے سکول کی ٹیم ایک دفعہ امرتسر کھیلنے کے لئے گئی۔میں اس وقت اگر چہ تعلیم سے فارغ ہوچکا تھا لیکن میرا مدرسہ سے ابھی تعلق قائم تھا کیونکہ میں نیا نیا نکلاتھا اس لئے میں بھی ساتھ چلاگیا۔وہاں خالصہ کالج والوں سے میچ مقرر تھا۔وہ دوست جنہوں نے کھیل میں حصہ لینا تھاوہ تو وہیںرہے اورمیں لاہور چلاآیا۔جب واپس گیا تو بعض دوست جو مجھ سے زیادہ تعلق رکھنے والے تھے وہ میرے استقبال کے لئے سٹیشن پرآگئے۔ان میں سے ایک نے بتایاکہ ہمارا میچ بڑا شاندار رہا۔لوگوں نے خوب داددی اورہم نے بڑی نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔اس خبر سے مجھے طبعاً خوشی ہوئی اور میں نے کہا الحمدللہ۔پھر وہ کہنے لگایوں تو سب کی ہی تعریف ہوئی مگر ہمارے کیپٹن کی لوگوں نے اس قدرتعریف کی کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں۔مجھے اس سے اورزیادہ خوشی ہوئی کیپٹن میاں بشیر احمد صاحب کے سالے تھے اور وہ واقعہ میں بہت اچھے کھلاڑی تھے۔مگر اس کے بعد کہنے لگا ایک عجیب بات آپ کو یہ بتائوں کہ ٹیم کا کیپٹن سب لوگ مجھے سمجھتے تھے۔گویا جس قدر کیپٹن کی تعریف ہوئی وہ سب اس نے اپنی طرف منسوب کرلی۔تو دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ اگر کسی کی اچھی چیز لوگوں کو نظر آئے توان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اسے اپنی طرف منسوب کرلیں لوگ شاعروں کے شعر چراکر اپنے نام سے شائع کروادیتے ہیں مگر ایسا کون بے وقوف ہوگا جو اعلیٰ درجہ کا شاعر ہو بڑے بڑے شاعروں اورادیبوں سے خراج تحسین حاصل کرنےوالا ہو اور پھر وہ اپنے شعر کے متعلق کہے کہ یہ میرا نہیں بلکہ فلاں شاعر کاہے۔ہاں ادنیٰ درجہ کے لوگ ایسا کرلیتے ہیں کہ خود شعر بنایا اور لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کےلئے کہہ دیا کہ یہ انوری کاہے یا خاقانی کا ہے یاسعدی کیا ہے یا حافظ کا ہے۔غرض یہ تو ہو جاتا ہے کہ دوسروں سے تعریف کروانے کے لئے بعض دفعہ اپنی چیز لوگ مشہور آدمیوں کی طرف منسوب کردیتے ہیں مثلا ًحدیث خود بنائی اور کہہ دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے لیکن یہ مثال کہیں نظر نہیں آئے گی کہ کوئی قادر الکلام انسان اپنا کلام دوسرے کی طر ف منسوب کردے۔خود اعلیٰ درجہ کا شعر کہے اور منسوب اسے کسی اور کی طرف کردے کیونکہ کوئی شخص ایسی بات دوسرے کی طر ف منسوب کرنےکے لئے تیارنہیں ہوسکتا جس سے اس کی اپنی شہرت میں اضافہ ہوتاہو۔