تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 407
یعنی وہ لوگ جن کے متعلق ہماری طرف سے یہ فیصلہ کیاجاچکا ہے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیاجائے گا وہ دوزخ کے قریب بھی نہیں جائیںگے۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ایک گروہ ایسا بھی ہے جو نہ صرف یہ کہ دوزخ میں نہیںڈالاجائے گا بلکہ دوزخ کے قریب بھی نہیںجائے گا۔پس زجاج کہتے ہیں کہ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا سے یہی مراد ہے کہ کفار دوزخ میںجائیںگے اور ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا ایک الگ قول ہے اوراس کے معنے یہ ہیںکہ ہم مومنوں کو دوزخ میںڈالے بغیر جنت میںلے جائیںگے زجاج کے علاوہ مجاہد کا بھی یہی قول ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس آیت کی جو تشریح فرمائی ہے اس کی تصدیق بھی حدیثوں سے ہوتی ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ بخار کے متعلق بتایا کہ یہ کیا چیز ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ھِی نَارِیْ اُسَلِّطُہَا عَلَی عَبْدِی الْمُؤْمِنِ لِتَکُوْنَ حَظَّہُ مِنَ النَّارِ یہ میری آگ ہے جو میں اپنے مومن بندہ پر اس لئے مسلّط کرتاہوں کہ اگلے جہان کی دوزخ کا حصہ اس کو یہیں مل جائے۔یہی حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیںکہ مومن کو اس دنیا میں جوتکلیفیں پہنچتی ہیںوہ درحقیقت اگلے جہان کی دوزخ کا ایک حصہ ہوتی ہیں۔اسی طرح رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اَلْحُمَّی حَظُّ الْمُوْمِنِ مِنَ النَّارِ بخار دوزخ میں سے مومن کا حصہ ہے یعنی مومن اگلے جہان کی دوزخ میں تونہیں ڈالاجاتا لیکن جب یہاں اسے بخار چڑھ جاتاہے یا اور بیماریاں آجاتی ہیں تو اسے بھی اس آگ سے ایک حصہ مل جاتاہے۔گویا کافراگلے جہان میں مرنے کے بعد آگ کے عذاب میں مبتلا کیا جائےگا اور مومن اسی دنیا میں مختلف تکالیف سے حصہ لےکر جو درحقیقت دوزخ کا ہی ایک حصہ ہے اگلے جہان میں جنت میں چلا جائے گا۔یہ دونوں حدیثیں قرطبی نے تہذیب التہذیب اور طبری کے حوالہ سے بیان کی ہیں۔اور یہ جو میں نے معنے کئے ہیں کہ یہاں اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاسے کافر مراد ہیں اور جودرحقیقت حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے(حقائق الفرقان جلد ۳ زیر آیت ھذا) حدیثوںسے بھی یہ معنے ثابت ہیں اور حضرت ابن عباس ؓ بھی اسی کے قائل تھے اورکہتے تھے کہ ھٰذَ اخِطَابٌ لِلْکُفَّار(قرطبی) اس سے مومن مراد نہیں بلکہ کافرمراد ہیں اور وہ اس آیت کی تشریح اِنْ مِّنْکُمْ کی جگہ اِنْ مِّنْھُمْ پڑھ کر کیا کرتے تھے (قرطبی ) یعنی وہ کافر جن کا پہلے ذکر ہے ا ن میں سے ہر شخص دوز خ میں ڈالا جائے گا۔عکرمہ اور ایک اورتابعین کی جماعت بھی اس قرأت کو جائز قراردیتی تھی کہ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا کی جگہ اِنْ مِّنْھُمْ اِلَّا وَارِدُھَا پڑھاجائے قرطبی کہتے ہیںکہ یہ جائز ہے کہ مِنْکُمْ ہو مگر ضمیر غائب مراد ہو جیسے قرآن کریم میںدوسری جگہ آتاہے کہ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا۔اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا (الدھر:۲۲۔۲۳) یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا