تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 400
جہاں تک میراخیال ہے یہ ’’جِھِنُّوْم ‘‘ (GEHINNOM )عربی زبان کا ہی ایک بگڑاہوا لفظ ہے۔عربی میں ’’ھِنَمٌ‘‘ کے معنے چیتے کے ہوتے ہیں اور ’’ذُوْھِنَمٍ ‘‘کے معنے ہوتے ہیں چیتوں والی جگہ ارمیک والوں نے بھی کہا ہے کہ یہ کسی لمبے لفظ کا ٹکڑا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اس کے معنے ’’وادی خونریزی ‘‘یا’’ قتل عام ‘‘ کے ہیں پس میرے نزدیک یہ اصل میں ’’ذُوْھِنَمٍ ‘‘تھا یعنی وہ جگہ جہاں چیتے رہتے ہیں اور لوگوں کو پھاڑتے اور زخمی کرتے ہیں۔عجمی لوگ چونکہ عربی کی ذال کو عموماً جیم سے بدل دیا کرتے ہیں اس لئے ارمیک والوں نے ’’ذُوْھِنَمٍ‘‘ کو ’’جِھِنُّوْم ‘‘ بنالیا اور عربی والوں نے پھر اس لفظ کو عجمیوں سے لے کر جہنم بنالیا۔اس قسم کی مثالیں بڑی کثرت سے پائی جاتی ہیں کہ ایک زبان سے بعض دفعہ دوسری زبان میںکوئی لفظ گیا اور اس نے بگڑ کر کوئی اور شکل اختیار کرلی۔پھر اس بگڑی ہوئی شکل کو اصل زبان والوںنے واپس لےکر ایک اور لفظ کا جامہ پہنالیا یہ لفظ بھی اصل میں ’’ذُوْھِنَمٍ‘‘ تھا یعنی چیتوں والی جگہ اور یہ عربی زبان کا لفظ تھا (المنجد)۔عربوں سے عجمیوں نے یہ لفظ لیا اور اس کو ’’ جِھِنُّوْم ‘‘ بنالیاپھر عربوں نے عجمیوں سے’’ جِھِنُّوْم‘‘ لفظ لے کر جہنم بنالیا۔اس کے علاوہ میرے نزدیک یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جہنم کا لفظ دو ثلاثی لفظوں کو ملاکر بنایا گیا ہو یعنی جہن اور جہم کو۔جہن کے معنے عربی زبان میں قریب ہونے کے ہیں اور جہم کے معنے برا منہ بناکر ملنے کے ہیں۔پس جہنم اصل میں جہن جہم ہے اور مراد یہ ہے کہ وہ چیز جس کی طرف انسان شوق سے جاتاہے مگر جب پا س جاتا جاتاہے تو منہ بناتاہے۔درحقیقت اس نام میں ہی جہنم کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ انسان پہلے دوزخ میں لےجانے والے افعال کا ارتکاب ان کو اچھا سمجھ کر کرتاہے مگر ان افعال کی وجہ سے جب وہ دوزخ کے قریب پہنچتاہے تو منہ بنا نے لگ جاتاہے کہ یہ تو بڑا برامقام ہے گویا اس کیفیت کے اظہار کے لئے جو دوزخ دیکھنے سے پیدا ہوتی ہے اور ان کا موں کی وجہ سے جن کو بظاہر انسان اچھا سمجھتاہے مگر وہ اسے دوزخ کے قریب کرتے چلے جاتے ہیں اس مقام کا نام جہنم رکھا گیاہے۔حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اسی رنگ میںایک لفظ کی تشریح کی ہے۔آپ ’’اسلامی اصول کی فلاسفی ‘‘میں تحریر فرماتے ہیںکہ خنزیر کا لفظ دراصل خنز اور ار سے مرکب ہے خنز کے معنے ہیں ’’بہت برا‘‘ اور اَر کے معنے ہیں ’’دیکھتا ہوں ‘‘۔پس خنزیر کے معنے یہ ہیں کہ میںاس کو بہت برا ،فاسد اور خراب دیکھتا ہوں (روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۳۸)۔یعنی اس جانور کے اندر بعض ایسی خصلتیں پائی جاتی ہیں جو اس کی گندگی اور خرابی ظاہر کرنے والی ہیں۔اس شکل میں مَیں سمجھتاہوں کہ جہنم بھی جہن اور جہم سے مرکب ہے یعنی جہنم ایک ایسی چیز ہے جس کے قریب جانے کی انسان