تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 399

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّيٰطِيْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ پس تیرے رب کی قسم ہم (جو تیرے رب ہیں )ان لوگوںکو (پھر ایک دفعہ )اٹھائیںگے اور شیطانوں کو بھی (اٹھائیں حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّاۚ۰۰۶۹ گے او ر) پھر اُن سب کو جہنم کے گرد ایسی صورت میں حاضر کریںگے کہ وہ زانووں کے بل گرے ہوئے ہوںگے۔حل لغات۔جِثیٌّ جَثَا الرَّجُلُ یَجْثُوْکے معنے ہوتے ہیں۔جَلَسَ عَلٰی رُکْبَتَیْہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اَوْقَامَ عَلٰی اَطْرَافِ اَصَابِعِہٖ یااپنے پائوں کی انگلیوں پر کھڑاہوا جَثَا سے اسم فاعل جَاثٍ آتاہےیعنی اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھنے والا جِثیٌّ جَاثٍ سے جمع کا صیغہ ہے (اقرب ) مفردات میں ہے کہ یہ مصدر بھی ہو سکتا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے ہم تیرے ہی رب کی قسم کھا کر کہتے ہیں لَنَحْشُرَنَّهُمْ کہ ہم ضرور ان کو اکٹھا کریں گے وَ الشَّيٰطِيْنَ اور ان شیطانوں کو بھی اکٹھا کریں گے جو ان کو ورغلارہے ہیں اس سے پتہ لگتاہے کہ انسان سے مراد وہی انسان ہے جس کا پہلے ذکر ہے ورنہ اگر اعلیٰ درجہ کے مومن اور صدیق اور شہداء اور انبیاء وغیرہ مراد ہوتے تو شیطانوں کا یہاں کیا ذکر تھا ؟ شیاطین کا ذکر کرنا صاف بتاتا ہے کہ ’’الانسان‘‘ سے وہی انسان مراد ہیں جو حیات بعد الموت پرپور ایمان نہیں رکھتے۔فرماتا ہے ہم ان کو بھی اکٹھا کریں گے اور شیاطین کو بھی اکٹھا کریں گے یعنی وہ فلسفی لوگ جو حیات بعدا لموت کے متعلق ان کو شبہات میں مبتلا کرتے رہے ہیں ان سب کو اکٹھاکرکے لائیںگے ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا پھر ہم ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے اس حال میں کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوںگے۔جہنم کے متعلق تمام مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ عجمی لفظ ہے عربی زبان میں اس کا کوئی مادہ نہیںپایا جاتا(الاتقان زیر لفظ جہنم)اور عجمی زبانوں کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ارمیک( ARAMAIC ) لفظ ہے جو ’’مقام سزا بعد الموت ‘‘ کے لئے استعمال ہوتاہے۔عبرانی زبان میں یہ لفظ جِھِّنَّہْ (GEHENNA ) استعمال ہوتاہے جو ارمیک زبان میں اصل میں ھِنُّوْم (HINNOM )تھا مگر پھر اسے جِھِنُّوْم (GE-HINNOM ) بنالیا گیا۔یہ بھی خیال کیا جاتاہے کہ ھِنُّوْم کسی لمبے لفظ کا ٹکڑا ہے اور اس کے معنے ’’وادی خون ریزی ‘‘یا ’’قتل عام ‘‘ کے سمجھے جاتے ہیں (انسائیکلو پیڈیا ببلیکا زیر لفظ ھنوم ویلی کالم ۲۰۷۰)