تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 396
گروہ جس کا عقیدہ تھا کہ مرنےکے بعد کوئی زندگی نہیں اس کے بعض افراد حضرت مسیح ؑ کے پاس آئے اور اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے انہیں فرمایا کیا تم نے تورات (خروج باب ۳ ،۶)میں نہیںپڑھا کہ خداوند کو ابراہام کا خدا اور اضحاق کا خد ا اور یعقوب کا خدا کہاگیا ہے۔اور تم جانتے ہوکہ ’’خدامردوں کا خدانہیں بلکہ زندوں کا ہے۔کیونکہ اس کے نزدیک سب زندہ ہیں ‘‘(لوقاب ۲۰آیت ۳۸ومتی ب۲۲آیت ۳۲) یعنی تمہیں بائبل سے یہ نتیجہ نکالنا چاہیے کہ ابراہیم ؑ او ر اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ کی روحیںزندہ ہیں اور ان کے باپ دادا کی روحیں بھی زندہ ہیں ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ ہمار اخدا زندوں کا نہیں بلکہ مردوںکا خداہے۔اسی طرح فرماتے ہیں ’’قیامت میں بیاہ شادی نہ ہوگی بلکہ لوگ آسمان پر فرشتوں کی مانند ہوںگے ‘‘ (متی باب ۲۲آیت ۳۰) پھر پولوس لکھتاہے۔’’ہم جانتے ہیں کہ جب ہمارا خیمہ کا گھر جو زمین پر ہے گرایا جائے گا تو ہم کو خدا کی طرف سے آسمان پر ایک ایسی عمارت ملے گی جو ہا تھ کا بنا ہوا گھر نہیں بلکہ ابدی ہے ‘‘۔(۲کرنتھیوں باب ۵آیت ۱) اسی طرح لوقامیں ایک غریب اوردولت مند کا قصہ بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح ؑ مرنے کے بعد کی زندگی کی طرف لوگوں کو توجہ دلاتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔’’ایک دولت مند تھا جو ارغوانی اورمہین کپڑے پہنتا اور ہر روز خوشی مناتا اور شان وشوکت سے رہتاتھا اور لعزر نام ایک غریب ناسوروںسے بھرا ہوا اس کے دروازہ پر ڈالا گیا تھااسے آرزو تھی کہ دولت مند کی میز سے گرے ہوئے ٹکڑوں سے اپنا پیٹ بھرے۔بلکہ کتے بھی آکر اس کے ناسور چاٹتے تھے اور ایسا ہوا کہ وہ غریب مرگیا۔اور فرشتوں نے اسے لے جاکر ابراہام کی گودمیں پہنچادیا اور دولتمند بھی ہوا اور دفن ہوا اس نے عالم ارواح کے درمیان عذاب میں مبتلاہوکر اپنی آنکھیں اٹھائیں اور ابراہام کو دور سے دیکھا اور اس کی گود میں لعزر کو اور اس نے پکار کر کہا کہ اے باپ ابراہام مجھ پر رحم کرکے لعزر کو بھیج کہ اپنی انگلی کا سرا پانی میںبگھو کر میری زبان ترکرے کیونکہ میں اس آگ میں تڑ پتاہوں ابراہام نے کہا بیٹا یاد کر کہ تو اپنی زندگی میں اپنی اچھی چیزیں لے چکا اور اسی طرح لعزر