تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 394

وَ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَيًّا۰۰۶۷اَوَ اور انسان ہمیشہ یہ کہتارہے گا کہ کیا جب میں مر جائوں گا تو پھر زندہ کرکے اٹھایا جائوںگا کیا انسان کو یہ بات یاد نہیں لَا يَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ يَكُ شَيْـًٔا۰۰۶۸ کہ ہم نے اس کو اس سے پہلے پیدا کیا تھا۔اور (اس وقت )وہ کوئی چیز نہیں تھا۔تفسیر۔مرنے کے بعد کی زندگی ہمیشہ ہی لوگوں کے لئے شبہات اور تردد کا موجب رہی ہے۔کیونکہ وہ نظر نہیں آتی اورمرنےوالے لوگوں سے سوائے اس کے کہ کوئی اعلیٰ درجے کے روحانی انسان ہوںکسی قسم کا تعلق باقی نہیں رہتا۔اس لئے خواہ کسی قوم اور مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں مرنے کے بعد کی زندگی کے متعلق ان کے دلوں میں ہمیشہ شبہات قائم رہتے ہیں مگر عجیب بات یہ ہے کہ جہاں سب سے زیادہ شبہ اس زندگی پرکیا جاتاہے وہاں سب سے زیادہ یقین بھی اسی زندگی کے متعلق پایا جاتاہے۔چنانچہ عام طور پر لوگ مُردوں کے نام پر کھانا کھلاتے ہیں مُردوں کے نام پرکپڑے تقسیم کرتے ہیں۔اور مُردوں سے ملنے کی خواہش ان کے دلوں میں پائی جاتی ہے۔ان کی اپنی زندگی دیکھو تو انہیں حیات بعد الموت پرکوئی یقین نہیں ہوتاکیونکہ اس زندگی پر ایمان رکھنے کا کوئی اثر ان کے اعمال میں نظر نہیں آتا۔جب انسان کو سچے دل سے یہ یقین ہو کہ مرنے کے بعد اس نے خدا تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے حاضر ہوناہے تو لازماًاس کی زندگی پر اس کا اثر پڑنا چاہیے اس کے اعمال میں اصلاح ہونی چاہیے۔اس کے خیالات میں درستی ہونی چاہیے۔لیکن جہاں ان کی اپنی زندگی پر اس کا کوئی اثر نظرنہیں آتا وہاں مرنے والوں کی ارواح کو ثواب پہنچانے کے لئے وہ کئی قسم کے کام کرتے بھی نظر آتے ہیں۔مثلاًیہی کہ مردوں کے لئے غرباء کو روٹی کھلادی یا ان کے ثواب کی خاطر کپڑے تقسیم کردئیے یہ عجیب قسم کا متضاد مقام ہے۔جو انسانی عمل سے ظاہر ہوتاہے۔اور درحقیقت انسان کی یہ شبہ والی حالت ایسی ہے کہ نہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مرنے کے بعد کی زندگی پر یقین نہیں رکھتااور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ یقین رکھتاہے۔جب ہم اس کی اپنی زندگی کو دیکھتے ہیں تو مابعدا لموت زندگی کا جو اثر اس کے اعمال پر پڑناچاہیے وہ ہمیں نظر نہیںآتا۔لیکن جب ہم مرنے والوں کے متعلق اس کے جذبات کودیکھتے ہیں تو ہمیںمعلوم ہوتاہے کہ اپنے مرنے ولے رشتہ داروں کے متعلق اس کے دل میں اس قسم کی تڑپ اور تمنا پائی جاتی ہے۔کہ وہ زندہ ہوں تو میں ان سے ملوں لیکن ایک طبقہ دنیا کا ایسا بھی