تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 394
وَ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَيًّا۰۰۶۷اَوَ اور انسان ہمیشہ یہ کہتارہے گا کہ کیا جب میں مر جائوں گا تو پھر زندہ کرکے اٹھایا جائوںگا کیا انسان کو یہ بات یاد نہیں لَا يَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ يَكُ شَيْـًٔا۰۰۶۸ کہ ہم <mark>نے</mark> اس کو اس سے پہلے پیدا کیا تھا۔اور (اس وقت )وہ کوئی چیز نہیں تھا۔تفسیر۔مر<mark>نے</mark> کے بعد کی زندگی ہمیشہ ہی لوگوں کے لئے شبہات اور تردد کا موجب رہی ہے۔کیونکہ وہ نظر نہیں آتی اورمر<mark>نے</mark>والے لوگوں سے سوائے اس کے کہ کوئی اعلیٰ درجے کے روحانی انسان ہوںکسی قسم کا تعلق باقی نہیں رہتا۔اس لئے خواہ کسی قوم اور مذہب سے تعلق رکھ<mark>نے</mark> والے لوگ ہوں مر<mark>نے</mark> کے بعد کی زندگی کے متعلق ان کے دلوں میں ہمیشہ شبہات قائم رہتے ہیں مگر عجیب بات یہ ہے کہ جہاں سب سے زیادہ شبہ اس زندگی پرکیا جاتاہے وہاں سب سے زیادہ یقین بھی اسی زندگی کے متعلق پایا جاتاہے۔چنانچہ عام طور پر لوگ مُردوں کے نام پر کھانا کھلاتے ہیں مُردوں کے نام پرکپڑے تقسیم کرتے ہیں۔اور مُردوں سے مل<mark>نے</mark> کی خواہش ان کے دلوں میں پائی جاتی ہے۔ان کی اپنی زندگی دیکھو تو انہیں حیات بعد الموت پرکوئی یقین نہیں ہوتاکیونکہ اس زندگی پر ایمان رکھ<mark>نے</mark> کا کوئی اثر ان کے اعمال میں نظر نہیں آتا۔جب انسان کو سچے دل سے یہ یقین ہو کہ مر<mark>نے</mark> کے بعد اس <mark>نے</mark> خدا تعالیٰ کے سام<mark>نے</mark> اپ<mark>نے</mark> اعمال کی جواب دہی کے لئے حاضر ہوناہے تو لازماًاس کی زندگی پر اس کا اثر پڑنا چاہیے اس کے اعمال میں اصلاح ہونی چاہیے۔اس کے خیالات میں درستی ہونی چاہیے۔لیکن جہاں ان کی اپنی زندگی پر اس کا کوئی اثر نظرنہیں آتا وہاں مر<mark>نے</mark> والوں کی ارواح کو ثواب پہنچا<mark>نے</mark> کے لئے وہ کئی قسم کے کام کرتے بھی نظر آتے ہیں۔مثلاًیہی کہ مردوں کے لئے غرباء کو روٹی کھلادی یا ان کے ثواب کی خاطر کپڑے تقسیم کردئیے یہ عجیب قسم کا متضاد مقام ہے۔جو انسانی عمل سے ظاہر ہوتاہے۔اور درحقیقت انسان کی یہ شبہ والی حالت ایسی ہے کہ نہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مر<mark>نے</mark> کے بعد کی زندگی پر یقین نہیں رکھتااور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ یقین رکھتاہے۔جب ہم اس کی اپنی زندگی کو دیکھتے ہیں تو مابعدا لموت زندگی کا جو اثر اس کے اعمال پر پڑناچاہیے وہ ہمیں نظر نہیںآتا۔لیکن جب ہم مر<mark>نے</mark> والوں کے متعلق اس کے جذبات کودیکھتے ہیں تو ہمیںمعلوم ہوتاہے کہ اپ<mark>نے</mark> مر<mark>نے</mark> ولے رشتہ داروں کے متعلق اس کے دل میں اس قسم کی تڑپ اور تمنا پائی جاتی ہے۔کہ وہ زندہ ہوں تو میں ان سے ملوں لیکن ایک طبقہ دنیا کا ایسا بھی