تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 383

شہوات سے لازماًبدکاری مرادنہیں ہوتی۔بے شک بعض جگہ بدکاری بھی معنے ہوتے ہیں اورہمیں ان معنوں کا انکار نہیں۔مگر یہاں اس کے یہ معنے نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ اپنے غلط اجتہادات کے تابع ہوگئے اور کلام الہٰی کی وہ غلط تاویلات جو انہوں نے اپنی نفسانیت کے ماتحت کی تھیں۔ان کے پیچھے چل پڑے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہ ہوگئے۔حقیقت یہ ہے کہ جب بھی انسان خدا تعالیٰ کی کتاب کی تفسیر خود اس کتاب کے ذریعے نہیں کرتا بلکہ اپنے اجتہادات سے کام لینا شروع کردیتاہے۔تو اس کاقدم غلط تاویلات کی طرف اٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔کیونکہ ہدایت اور کامیابی اور علم اور نجات کادروازہ صر ف اس کتاب نے کھولا ہوتاہے اب کتاب خواہ موجود ہو لیکن انسان اپنی عقل اور اپنے اجتہاد سے اس میں نئی نئی باتیں داخل کرناشروع کردے تو خدا تعالیٰ کی ہدایت مشتبہ ہوجائے گی اور بوجہ اس کے کہ وہ اپنے نفس کے پیچھے چل رہا ہوگا ہلاکت اور بربادی ا س کا احاطہ کرلے گی۔اِنْہِمَاکُ فِی الْجَہْلِ کی ایک یہ بھی قسم ہے کہ انسان ان باتوں کے پیچھے پڑ جاتاہے جن کاروحانیت کی اصلاح یا خدا تعالیٰ کے قرب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا محض نئے نئے لطیفے نکالنا اس کاکام رہ جاتاہے۔حقیقت اور معرفت سے وہ زیادہ سے زیادہ دور ہوتاچلاجاتاہے۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دفعہ ایک مولوی صاحب آئے اورکہنے لگے مولوی صاحب میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ میر ا کام لوگوں میں وعظ کرنا ہے اور وعظ کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک المبکیات کی اورایک المضحکات کی۔یعنی ایک ان باتوں کی جو لوگوں کو رلانے والی ہوں اور ایک ان باتوں کی جو لوگوں کو ہنسانے والی ہوں۔آپ نے چونکہ بڑی بڑی کتابیں پڑھی ہوئی ہیں اس لئے اب مجھے کوئی ایسی کتاب بتائیں جس میں کچھ رلانے والی باتیں ہوں۔اور کچھ ہنسانے والی باتیں ہوں تاکہ میں اس سے فائدہ اٹھاکر لوگوں کو رلا یا ہنسا سکوں۔غرض انسان جب گرتاہے تو پھر ایسی ہی لغو باتوں کے پیچھے پڑ جاتاہے۔اسی طرح جب خدا تعالیٰ کی کتاب پر غور کرنے کی عادت نہیں رہے گی تو عجیب وغریب قصوں کی طرف توجہ ہوجائے گی۔اور انہیں قصوں کو خدا تعالیٰ کی کتاب کی تفسیر سمجھ لیا جائے گا۔میں نے بعض پرانے مفسرین کو دیکھا ہے ایسے ایسے لغو قصے وہ اپنی تفسیروں میں لاتے ہیں کہ یوں معلوم