تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 384

ہوتاہےانہیں قرآن کریم پر غور کرنے کی عادت ہی نہیں۔ان کا انہماک محض اِنْہِمَاکُ فِی الْجَہْلِ ہوتاہے اَلْاِنْہِمَاکُ فِی الْحِکْمَتِ نہیں ہوتا مثلاًایک نے لکھ دیا کہ فرشتے کے دس پَر ہوتے ہیں۔اس پر دوسرا تلاش کرتاہے کہ کوئی پندرہ پَروں والی بھی روایت ہے یا نہیں۔جب کوئی یہودی بتادیتاکہ ہاں پندرہ پَروں والی بھی ایک روایت ہے۔تو وہ لکھتا کہ فرشتے کے دس نہیں پندرہ پَر ہوتے ہیں اور فلاں روایت سے ثابت ہے۔پھر کوئی اور یہودی کہہ دیتا کہ فرشتے کے سو پَر بھی ہوتے ہیں اس پر وہ سو پَروں والا قصہ لے بیٹھتے ہیں۔مگر پھر اس پر بھی تسلی نہیں ہوتی۔اورپوچھتے ہیں کہ کیا ہزار پَروں والی بھی کوئی روایت ہے اس پریہودی پھر ایک روایت گھڑ کربتادیتے۔اور ہمارے مفسر بڑے خوش ہوتے کہ اب ہزار پَر ثابت ہوگئے ہیں۔اور لوگ ہیںکہ مزے لے رہے ہیں۔اورکہتے ہیں سُبْحَانَ اللہِ فلاں مولوی صاحب تو بڑے علامہ ہیں۔انہوں نے ایک ہزار پَروں والی روایت بیان کی ہے۔غرض حقیقت کو چھوڑ کرلغویا ت کے پیچھے پڑ گئے حالانکہ ان لغویات کا نہ مذہب سے تعلق ہے نہ ایمان سے تعلق ہے، نہ خدا سے تعلق ہے۔محض جاہلانہ اور احمقانہ باتیں ہیں اگر مسلمان قرآن پر غو ر کرتے جیسے یہودی اگر تورات پر غور کرتے۔عیسائی اگر انجیل پر غور کرتے۔تو خواہ تورات اور انجیل اب بگڑی ہوئی حالت میں ہیں پھر بھی وہ اس جہالت سے بچ جاتے۔مگر چونکہ مسلمانوں نے قرآن پر غور کرنا ترک کردیا اور عیسائیوں اور یہودیوں نے تورات اور انجیل پر غور نہ کیا اس لئے خدا کی کتاب ان کے لئے ہدایت کا موجب نہ ہوئی اور وہ گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔مفردات والوںنے بھی غیٌّ کی لطیف تفسیر کی ہے کہ اَلْغَیُّ جَہْلٌ مِنْ اِعْتِقَادٍ فَاسَدٍ یعنی جب انسان جھوٹے اعتقادات اور غلط روایات خدا تعالیٰ کی کتاب اور اس کے دین کی طرف منسوب کرتاہے تو اس کے نتیجہ میں جو جہالت پیدا ہوتی ہے اس کو غیّ کہتے ہیں۔اگر یہ لوگ نمازیں پڑھتے اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کرتے دعاؤں اور انابت سے کام لیتے اور اپنے غلط اجتہادات کے پیچھے چلنے کی بجائے خدا تعالیٰ کے الہام اور اس کے کلام سے راہنمائی حاصل کرتے تو ان کا یہ انجام نہ ہوتا۔مگر چونکہ انہوں نے دونوں باتیں چھوڑ دیں اس لئے ان حالات کانتیجہ گمراہی اور ناکامی اور جہالت دینی اور ہلاکت ہی پیدا ہونا تھا جو ہوگیا۔حقیقت یہ ہے کہ نمازوں میں سستی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کاوصال ہاتھ سے جاتاہے۔اور اس کی صفات کاعلم انسان کو حاصل نہیں ہوتا۔پس اس کے نتیجے میں ضلال پیدا ہوتاہے۔دعا کی کمی کی وجہ سے ناکامی آتی ہے۔اتباعِ شہوات سے علم اور دلیل سے رغبت کم ہوکر جہالت میں انہماک پیدا ہوتاہے۔اور ان سب چیزوں کے جمع ہونے کی وجہ سے ہلاکت پیدا ہوتی ہے۔