تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 382

الحقیقت خدا تعالیٰ کی طر ف سےہدایت یافتہ تھے۔اور برگذیدہ بھی تھے تم کہتے ہو کہ وہ خداکے نافرمان تھے۔حالانکہ ان کی حالت یہ تھی کہ جب رحمٰن خدا کی نشانیاں ان پرپڑھی جاتیں تو وہ سجدہ کرتے ہوئے اورروتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور گرجاتے تھے۔فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا پھران کے بعد ایک ایسی نسل آئی جنہوں نے نماز کو ضائع کردیا اور نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ گئے۔پس وہ الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّاۙ۰۰۶۰اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عنقریب گمراہی کے مقام تک پہنچ جائیں گے۔سوائے اس کے جو توبہ کرلے گااور ایمان لائے گا۔اور نیک عمل عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا يُظْلَمُوْنَ کرے گا۔یہ (لوگ )جنت میں داخل ہوںگے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔(یعنی ان جنتوں میں )جو ہمیشہ شَيْـًٔاۙ۰۰۶۱جَنّٰتِ عَدْنِ ا۟لَّتِيْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَيْبِ١ؕ رہنے والی ہیں اور جن کا (خدائے )رحمٰن نے اپنے بندوں سے ایسے وقت میں وعدہ کیا ہے جبکہ وہ ان کی نظروں اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِيًّا۰۰۶۲ سے ابھی پوشیدہ ہیں۔یقیناًخدا کاوعدہ پورا ہوکر رہتاہے۔حلّ لُغَات۔غَیٌّ کے معنے ہیں (۱)الضَّلَالُ گمراہی (۲)الخَیْبُ ناکامی (۳)الْاِنْہِمَاکُ فِی الْجَہْل جہالت کی باتوں میں انہماک (۴)الہَلَاک ہلاکت۔(اقرب الموارد) مفردات میں لکھا ہے ا لْغَیُّ جَھْلٌ مِنْ اِعْتَقَادٍ فَاسدٍ غیّ اس جہالت کو کہتے ہیں جو غلط عقیدہ سے پیدا ہوتی ہے۔تفسیر۔اس میں بتایا گیا ہے کہ ان کی امتیں بگڑتے بگڑتے ایسی حالت پر پہنچ گئیں کہ نمازوںکی پابندی انہوں نے ترک کردی۔یادعاؤں کی رغبت ان کے دلوں میں سے جاتی رہی۔اور انہوں نے شہوات کی پیروی کی۔