تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 381

مفسرین کہتے ہیں کہ ذریۃ آدم ؑسے ادریس ؑکی طرف اشارہ کیا گیاہے اور وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ سے ابراہیم کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔اورذُرِّيَّةِ اِبْرٰهِيْمَ سے اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اسی طرح وہ اسرائیل سے پہلے وَ مِنْ ذُرِّيَّةِ کومحذوف سمجھتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ذُرِّیَّۃُ اِسْرَائِیْلَ سے موسیٰ اور ہارون ؑ اور زکریا ؑ اور یحییٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ کی طر ف اشارہ کیا گیا ہے۔(صفوۃ التفاسیر زیر آیت ھذا)گویا ان الفاظ میں پچھلے انبیا ء کی ایک لسٹ بیان کردی گئی ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ یہ سب کے سب ہمارے بندے تھے۔وَ مِمَّنْ هَدَيْنَا وَ اجْتَبَيْنَا اور ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت دی اورجنہیں اپنے قرب کے لئے مخصوص کرلیا۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ مِمَّنْ کاعطف کس پر ہے سو میرے نزیک یہمِنَ النَّبِيّٖنَ پرہے۔یعنی وہ نبی ایسے تھے جن کو ہم نے ہدیت دی اور انہیں برگذیدہ بنالیا اس پراعتراض ہو سکتا ہے کہ کیا نبی ہدایت یافتہ نہیں ہوتے۔جب خدا تعالیٰ نے انہیں نبی کہہ دیا تھا تو ان کا مہدی اور مجتبیٰ ہونا تو اسی میں آگیا تھا پھر اس کاعلیحدہ ذکر کیوں کیا گیا ؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی صفت ایک خاص خیال کے دور کرنے کے لئے بھی بیان کردی جاتی ہے۔اسرائیلی اور مسیحی مذہب میں نبیوں کو عام طور پر گنہگار اور خطاکار بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ بائبل پڑھ کر دیکھ لو یہود نے حضرت نوح ؑ پر بھی الزام لگائے۔حضرت لوط ؑ کی طرف بھی گندے افعال منسوب کئے۔حضر ت داود ؑ کو بھی گنہگار ٹھہرایا حضرت ہارون ؑ کو بھی خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا قرار دیا۔غرض کوئی نبی ایسانہیں جسے انہوں نے گنہگار نہ کہا ہو (پیدائش باب ۹ آیت ۲۴)۔اسی طرح عیسائی اللہ تعالیٰ کے سب ابنیاء کو گنہگار قرار دیتے ہیں بلکہ انجیل میں یہاں تک لکھا ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے کہا ’’جتنے مجھ سے آگے آئے چور اور بٹ مار ہیں ‘‘ (یوحنا باب ۱۰ آیت ۸) گویا عیسائی اور یہودی دونوں قومیں انبیاء کو گنہگار قرار دیتی ہیں۔یہودی تو اپنے گناہوںپر پردہ ڈالنے کے لئے ان کی طرف گناہ منسوب کرتے ہیں۔اور عیسائی اس لئے ان کو گنہگار قرار دیتے ہیں۔تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ چونکہ وہ گنہگار تھے اس لئے نجات کاموجب نہیں ہوسکتے۔نجات صرف مسیح پرایمان لانے کے ساتھ وابستہ ہے۔غرض انبیاء کو گنہگار ثابت کرنے کے لئے ایک ایک غرض ان دونوں قوموں کے مد نظر ہے۔ایک غرض یہودیوں کے سامنے ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء کو گنہگار قراردیتے ہیں۔اورایک غرض عیسائیوں کے سامنے ہے جس کی وجہ سے وہ سب انبیاء کو گنہگار قرار دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نےمِمَّنْ هَدَيْنَا وَ اجْتَبَيْنَا میں یہودیوں اور مسیحیوں کے انہی خیالات کی تردید کی ہے اور بتایا ہے کہ ان کو ہماری طرف سے صرف لفظی طورپر نبی کانام نہیں دیا گیا بلکہ وہ