تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 373
زمین کی بدی کی وجہ سے جو شمہازائی (SHAMAZAI ) اور عزائیل (AZAEL) نے پیدا کی حنوک کو خدا نے آسمان پر اٹھایا تاکہ وہ دیکھ لے کہ خدا ظالم نہیں۔یہ عزائیل وہی ہے جسے عربی میں عزازیل کہتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ جب شیطان نے دنیا میں شرارتیں شروع کیں اور لوگوں نے خدائی احکام کو نہ مانا تو اللہ تعالیٰ نے دیکھاکہ حنوک کو یہ برا لگاہے۔چنانچہ اس نے حنوک کو آسمان پر اُٹھالیا وہاں اسے متاترن کا عہدہ دیا گیا او ر دانائی کے سب دروازے اس کے لئے کھولے گئے۔اور سب فرشتوں کااسے سردار مقرر کیا گیا اور اس کے مادی جسم کو نورانی جسم میں تبدیل کردیا گیا۔حئی حنوک (HAYYE HANOK ) نامی کتاب جسے عربی میں حیاۃ حنک کہیں گے یعنی حنوک کی زندگی کے حالات (حنک عربی میں اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی عمر کے مختلف کاموں سے تجربات حاصل کرلے گویا صاحب تجربہ آدمی )اس پہلی کتاب سے بعد میں لکھی گئی ہے۔اس میں لکھا ہے کہ حنوک ایک نیک راہب تھا اسے آسمانی آواز نے دنیا کے لوگوں کی طرف بھیجا اور پھر اس نے ان کو آکر توبہ کی تعلیم دی بہت سے شاگرد اس کے گرد جمع ہوگئے اور دانائی میں ترقی کرتے کرتے وہ بادشاہ منتخب کیا گیا۔۲۴۳سال تک اس نے دنیا میں امن قائم رکھا لیکن آخر اس نے خلوت کی خواہش کی اور اپنا تخت چھوڑ دیا مگر کبھی کبھی لوگوں کو تعلیم دینے کے لئے ظاہر ہوجاتا تھا۔کچھ عرصہ کے بعد خدا تعالیٰ نے اسے زمین چھوڑنے کا حکم دیا اور آسمان پر خداکے بیٹوں کی حکومت اس کے سپرد کی (خداکے بیٹوں سے یہودیوں کے نزدیک خداکے فرشتے مراد ہیں )وہ آسمان پر ایک گھوڑے پر سوار ہوکر گیا جس طرح ایلیا ہ نبی آسمان پر گیا تھا بہت سے لوگ اس کو آسمان پر چڑھتے ہوئے دیکھنے کے لئے جمع ہوئے اور انہوں نے اس کی سخت منتیں کیں کہ وہ آسمان پر نہ جائے اور ان میں رہے لیکن اس نے ان کی نہ سنی اور آسمان پر چلا گیا۔بعض یہودیوں کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس نے موسوی قانون کے نازل ہونے پر اسے اختیار کر لیاگو قانوناًوہ صرف نوح کی شریعت کا پابند تھا جس میں صرف سات احکام تھے (جیوش انسائیکلوپیڈیا جد ۵ زیر لفظ Enoch) یہ ایسی ہی روایت ہے جیسے ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ ؎ چہ خوش گفت است سعدی درزلیخا اَلآیٰا اَیُّہَا السَّاقِیْ اَدِرْکَاسًاوّنَاوِلِہَا یعنی سعدی نے زلیخامیں کیا ہی اچھا کہا ہے کہ ؎ اَلآیٰا اَیُّہَا السَّاقِیْ اَدِرْکَاسًاوّنَاوِلِہَا