تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 361
الیاس کا تلفظ ادا کرنے سے قاصر ہوتے تب بے شک کہا جاسکتاتھا کہ اس جگہ ادریس سے الیاس مراد ہے مگر جب الیاس کانام قرآن کریم نے استعمال کیا ہے تو ادریس سے الیاس مراد لینا یقیناً غلط ہے اور اس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔حنوک کے معنے اور ادریس کے معنے آپس میںملتے جلتے ہیں۔حنوک کے معنے عبرانی زبان میں DEDICATIONیا INSTRUCTIONکے ہیں یعنی سکھانا یا کسی چیز کی طرف منسوب کردینا (انسائیکلوپیڈیا ببلیکا جلد ۲ زیر لفظ Enoch) اور ادریس کے معنے بھی اسی رنگ کے ہیں۔دَرَسَ کے معنے ہیں پڑھااور دَرَّسَ کے معنے ہیں پڑھایا۔پس ادریس کے معنے ہوئے بڑا پڑھنے والایا بڑا پڑھانے والا گویا INSTRUCTON کے معنے بھی اس میں آجاتے ہیں اور DEDICATION کے معنے بھی اس میں آجاتے ہیں کیونکہ جو شخص کسی کام میں لگا رہتاہے وہ اس میں ماہرہوجاتا ہے اور اسی کام کے لئے وقف ہو جاتا ہے۔پس ادریس کے معنوں میں بھی یہ پایا جاتاہے کہ ’’بڑی مہارت رکھنے والا اور فن کے لئے وقف ہوجانے والا ‘‘ گویا جو معنے عبرانی میں حنوک کے پائے جاتے ہیں وہی ادریس کے عربی میں پائے جاتے ہیں۔اقرب الموارد والا لکھتاہے کہ یہ لفظ عَلَم عجمی ہے یعنی عجمی نام ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ غیر منصرف ہے اورغیر منصرف اگر علَم ہو تو اس کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ عجمی ہو چونکہ ادریس غیر منصرف ہے اس لئے بوجہ علَم ہونے کے یہ عجمی لفظ بھی ہے ورنہ یہ غیر منصرف نہ ہوتا۔ابن السکیت کا خیا ل ہے کہ یہ غیر منصر ف ہے اور عربی ہے وہ کہتے ہیں کہ ادریس کے معنے عربی زبان میں پائے جاتے ہیں جیسے اَبلَسَ سے اِبلِیسہے اسی طرح اَدرَسَ سے اِدرِیس ہے۔پس یہ لفظ عربی ہے اور انہوں نے اس پر اصرار کیا ہے اور کہاہے کہ جیسے یعقوب عقب سے اور اسرائیل اسرال سے نکلاہے اسی طرح ادریس اَدرَسَ سے نکلاہے اور گو انہوں نے یہ نہیں لکھا مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض اور نام بھی ایسے پائے جاتے ہیں جوعربی زبان سے نکلے ہیں مثلاًاضحاق ضحک سے ہے اسماعیل سمع سے ہے پس ان کے نزدیک ادریس عربی لفظ ہی ہے لیکن جو دوسرے ماہرین زبان ہیں ان کے نزدیک یہ ناقابل قبول بات ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ عربی ہوتاتو غیر منصرف نہیں ہوسکتاتھا۔اس صورت میں یہ عربی عَلَم قرار دیا جائے گا اور عربی عَلَم غیر منصر ف نہیں ہوتا۔پس انہوں نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس لفظ کو عربی قرار دینے کے لئے دو باتیں ضروری ہیں ایک یہ کہ عَلَم ہو اور دوسری یہ کہ غیر منصر ف نہ ہو۔اصمعی نے اور قرطبی نے اور صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جس زبان کا یہ لفظ ہے اس زبان میں