تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 360
کیا ہے اور اسحاق اور یعقوب کے ذکر سے پہلے کیوں ابراہیم کا ذکر کیاہے۔وہ صرف اتنا لکھ دیتے ہیں کہ برسبیل تذکرہ ابراہیم کا ذکر آگیا بر سبیل تذکرہ موسیٰ کا ذکر آگیا برسبیل تذکرہ اسماعیل کا ذکر آگیا۔گویا جس طرح ہم بعض دفعہ غلطی سے دوسروں کا آگے پیچھے ذکر کردیتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ سے بھی نعوذباللہ غلطی ہوگئی ہے کہ اس نے ترتیب سے ذکر کرنے کی بجائے ان نبیوں کا آگے پیچھے ذکر کردیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک ایک نبی کا ذکر اپنے مقام پر ہے کسی ایک نبی کا ذکر بھی آگے پیچھے نہیں پہلے زکریا ؑ کاہی ذکر ہونا چاہیے تھا پھر یحییٰ کا ہی ذکر ہونا چاہیے تھا۔پھر مسیح کا ہی ذکر ہونا چاہیے تھا پھر ابراہیم کا ہی ذکر ہونا چاہیے تھا پھر اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ کا ہی ذکر ہونا چاہیے تھا پھر موسیٰ اور ہارون کی ہی ذکر ہونا چاہیے تھا اور پھر اسماعیل کا ہی ذکر ہونا چاہیے تھا یہ بتانے کے لئے کہ ایک سلسلہ تو مکمل ہوگیا۔اب دوسرے سلسلہ کی طرف چلو جس خدا نے اتنا بڑا سلسلہ چلایا ہے کیا وہ دوسر اسلسلہ نہیں چلائے گا؟ وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ١ٞ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّاۗۙ۰۰۵۷ اور تو قرآن (کریم ) کے رو سے ادریس کا بھی ذکر کر وہ بھی صدیق نبی تھا۔وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا۰۰۵۸ اور ہم نے اسے نہایت اعلیٰ مقام تک پہنچایا تھا تفسیر۔اس آیت کے متعلق دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔اول یہ کہ ادریس ؑ کون تھا۔اور دوسرایہ کہ ادریس ؑ کا ذکر اس جگہ کیوں آیا ؟ مفسرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ ادریس حنوک کانام تھااور حنوک حضرت آدم علیہ السلام کے پڑپوتے اور حضرت نوح علیہ السلام کے دادا تھے(فتح البیان زیر آیت ھذا) انگریزی میں حنوک کو (ENOCH ) لکھتے ہیں۔بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ ا لیاس ہیں اور ان کے الیاس لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ ا لیاس کے متعلق بھی یہ خیال پایا جاتاہے کہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔دوسرے حضرت مسیح کے متعلق یہ خبر تھی کہ ان کے آنے سے پہلے ایلیاہ نبی آسمان سے دوبارہ آئے گا۔پس انہوں نے اس خیال سے کہ مسیح ؑ کے ساتھ الیاس کی مشابہت ہے یہ قیاس کیا ہے کہ اس جگہ ادریس سے الیا س ہی مراد ہے مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں اور یوں بھی یہ خیال اس وجہ سے غلط ہے کہ قرآن کریم میں الیاس کا نام آتاہے پس الیاس کا ہی کسی دوسرے نام سے ذکر کرنا غیر معقول تھا یا تو عرب لوگ