تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 359
گویا بائبل کی شہادت بھی اس امر پر موجود ہے کہ حضرت اسماعیل خطرناک حالات میں سے بھی گذرے مگر پھر بھی انہوں نے خدا کو نہ چھوڑا۔جب وہ دین کے لئے اس قدر فدائیت کی روح اپنے اندر رکھتاتھا اور خدا تعالیٰ کی خاطر خطرناک سے خطرناک حالات میں اپنے آپ کو ڈالنےکےلئے تیار رہتاتھا تو اے عیسیٰ کے ماننے والو! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں اسے چھوڑدوں اور ان خبروں کو پورانہ کروں جو اس کی آئندہ نسل کے متعلق میں نے دی تھیں۔حالانکہ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا اسے میں نے دنیا کی طرف بھیجا تھا اور پھر میں نے اسے خبریں بھی دی تھیں۔گویا میں نے اسماعیل کے متعلق دوہری خبریں دیں۔ایک دفعہ میں نے ابراہیم کے ذریعہ اسماعیل اور اس کی نسل کی ترقی کی خبردی اور دوسری دفعہ خود اسماعیل کو میں نے ا س بارہ میں الہامات کئے اور اسماعیل وہ تھاجو بڑے سچے وعدے کرنے والا تھا مگر اب تم یہ چاہتے ہوکہ میں ابراہیم کو بھی جھوٹا ثابت کروں اور اسماعیل جو بڑا راست باز انسان تھا اس کو بھی جھوٹاثابت کروں او رخود بھی جھوٹا بنوں۔وَ كَانَ يَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ اور اپنے اہل کو نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کرتارہتاتھا اور اپنے رب مَرْضِيًّا۰۰۵۶ کے نزدیک پسندیدہ وجود تھا۔تفسیر۔فرماتا ہے جب میں نے اس کو کہا کہ میں آئندہ تیر ی نسل میں سے ہدایت او ر رشد کا ایک سلسلہ جاری کرنے والا ہوں تو اس نے اس امید میں تہیہّ کر لیا کہ اب میں اپنی اولاد کو ہمیشہ نیکی کی باتیں سکھلائوں گا تاکہ خدائی وعدوں کے پورا ہونے میں آسانی ہو۔چنانچہ وہ اپنی اولاد کو ہمیشہ نمازوں اور دعائوں کی تاکید کیا کرتاتھا اور زکوٰۃ دیا کرتا تھا او ر خدا نے جو کام اس کے سپرد کیا تھا اس کو وہ پوراکرنے والا تھا اور خدا اس سے بڑا خوش تھا۔مگر ان ساری باتوں کے باوجود تم کہتے ہو کہ خدا نے حضرت مسیح کو اپنا بیٹا بنا کر بھیج دیا اور اب دنیا کی نجات کے لئے آئندہ کوئی نیا سلسلہ قائم نہیں ہوسکتا۔کیا یہ عقل کی بات ہے کہ اتنے عرصہ سے ہماری پیشگوئیاں چلی آرہی ہوں اور پھر وہ پوری نہ ہوں۔افسوس ہے کہ ہمارے مفسرین نے اس حکمت کو نہیں سمجھا کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے یہاں اسماعیل کا ذکر کیا ہے کیوں اس سے پہلے موسیٰ اور ہارون کا ذکر کیاہے پھر موسیٰ اور ہارون کے ذکر سے پہلے کیوں اسحق اور یعقوب کا ذکر