تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 358
تھے وہ وعدے بھی ہم <mark>نے</mark> پورے کر<mark>نے</mark> تھے یا نہیں ہم <mark>نے</mark> بنو اسحاق کے ساتھ اپ<mark>نے</mark> عہد کو پورا کرتے ہوئے موسیٰ جیسا عظیم الشان نبی ان میں پیدا کردیا۔اب اسماعیلی وعدوںکے پورا ہو<mark>نے</mark> کا وقت آیا تو ہم <mark>نے</mark> اس کی نسل میں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیداکردیا۔غرض اسماعیل کا ذکر اللہ تعالیٰ <mark>نے</mark> ابراہیمی عہد کے دوسرے ظہور کی طرف اشارہ کر<mark>نے</mark> کے لئے کیا ہے اور عیسائیوں کو بتلایا ہے کہ جس قسم کا درجہ تم عیسیٰ ؑ کو دیتے ہو اگر وہ درست ہے تو اس کے مع<mark>نے</mark> یہ ہیں کہ اسماعیل کے متعلق جو وعدے کئے گئے تھے وہ بھی ختم ہوگئے ہیں اور ابراہیمی دعائیں بھی ضائع ہوگئی ہیں حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دو وعدے کئے گئے تھے ایک اسحاق کے متعلق اور ایک اسماعیل کے متعلق گویا بتایا گیا تھا کہ نسل ابراہیمی سے برکتوں کے دو سلسلے جاری ہوں گے ایک سلسلہ اسحاق کے ذریعہ چلے گا اور ایک سلسلہ اسماعیل کے ذریعہ چلے گا اسماعیل اگر چہ بڑا لڑکا تھا مگر خدا <mark>نے</mark> فرمایا کہ میں اپنا عہد اسحاق سے شروعی کروں گا چنانچہ وہ سلسلہ شروع ہوا اور اللہ تعالیٰ <mark>نے</mark> دوہزار سال تک بنواسحاق کو نبوت اور حکومت عطافرمائی اب اگر مسیح پر آکر یہ تمام سلسلہ ختم ہوجانا تھا تو اس کے مع<mark>نے</mark> یہ تھے کہ اسماعیل کے متعلق جو کچھ کہا گیا تھا وہ بالکل جھوٹ تھا۔پس اللہ تعالیٰ <mark>نے</mark> عیسائیوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ تمہارا یہ کہنا کہ عیسیٰ ایسے مقام پر تھا کہ جس کے بعد عہدابراہیمی ختم ہوگیا بائبل کے صریح خلاف ہے تمہیں اب اس دوسرے سلسلہ کی طرف توجہ کرنی چاہیے جو ہم <mark>نے</mark> ابراہیم کے دوسرے بیٹے اسماعیل کی نسل میں سے جاری کیا ہے۔اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا ان الفاظ میں عیسائیوں اور یہودیوں پر ایک <mark>سخت</mark> چوٹ کی گئی ہے فرماتا ہے اسماعیل بڑے سچے وعدے کر<mark>نے</mark> والا تھا مگر تمہارے نزدیک مَیں ہی جھوٹے وعدےکر<mark>نے</mark> والا ہوں۔وہ ہمارے لئے اپنی جان تک دی<mark>نے</mark> کے لئے تیار رہتاتھا۔خود بائبل میںلکھاہے کہ ’’اس کا ہاتھ سب کے خلاف اورسب کے ہاتھ اس کے خلاف ہوں گے اور وہ اپ<mark>نے</mark> سب بھائیوںکے سام<mark>نے</mark> بسا رہے گا ‘‘ (پیدائش باب ۱۶ آیت ۱۲) یعنی اس کی زندگی ہمیشہ تلواروں کے سایہ تلے گذرے گی اور وہ دین کے لئے ہمیشہ اپ<mark>نے</mark> بھائیوں سے نبرد آزما رہے گا۔اسی طرح بائبل میں حضر ت اسماعیل کے متعلق آتاہے کہ ’’خدا اس لڑکے کے ساتھ تھا ‘‘ (پیدائش باب ۲۱ آیت ۲۰)