تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 357

تفسیر۔قرآن کریم میں دوسری جگہ سورئہ طٰہٰ میں آتاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعاکی تھی کہ وَ اجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا مِّنْ اَهْلِيْ (طہ:۳۰) میرے اہل میں سے مجھے ایک مدد گار عطافرمایا جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وہ دعاسنی اور حضرت ہارون ؑ کو بھی نبوت کے مقام پر فائز کردیا۔اس جگہ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِيًّا میں اس طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ اور انبیاء کا مقام نبوت ایک الگ رنگ رکھتاہے اور ہارون کا مقام نبوت اور رنگ رکھتاہے ہارون ہم نے موسیٰ کو اپنی رحمت سے عطا کیاتھا گویا وہ نبی تو تھا مگر موسیٰ کا ایک خادم اورآپ کے ماتحت کے طور پر تھا۔وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ١ٞ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ اور تو قرآن کے مطابق اسماعیل کا بھی ذکر کر۔وہ بھی یقیناً سچے وعدوں والا تھا كَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّاۚ۰۰۵۵ اور رسول (او ر)نبی تھا۔تفسیر۔اب اللہ تعالیٰ اس تمام ذکر کو پھر اسماعیل ؑ کی طرف واپس لوٹاتاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتاہے کہ عیسوی سلسلہ کوئی الگ سلسلہ نہیں بلکہ موسوی سلسلہ کی ایک کڑی ہے اور موسوی سلسلہ کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہے جن کے دوبیٹے تھے اسماعیل اور اسحٰق۔اسحاق کے متعلق بھی وعدہ تھا کہ خدااسے اور اس کی نسل کو ترقی دے گا اور اپنا عہد اس کے ذریعہ سے پوراکرے گا اور اسماعیل کے متعلق بھی وعدہ تھا کہ خدا اسے برکت دے گا اسے بڑھائے گا اور اسے ایک بڑی قوم بنائے گا لیکن بائبل سے یہ بھی ظاہر ہوتا کہ عہد ابراہیمی گو اسحاق کے ذریعہ شروع ہونا تھا مگر پورا ان کے دونوں بیٹوں کے ذریعہ سے ہونا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسی حکمت کے ماتحت پہلے ابراہیم اور اسحاق کا ذکر کیا او رپھر موسیٰ کا ذکر کرکے بتایا کہ عیسیٰ تو نسل ابراہیمی کے دو سلسلوں میں سے صرف ایک سلسلہ کی آخری کڑی ہے اسے تم نے آسمان پر کیوں چڑھا رکھاہے اور کیوں یہ سمجھتے ہو کہ دنیا کا جو آخری نجات دہندہ آناتھا وہ مسیح کی شکل میں آچکا۔تم جانتے ہو کہ ہم نے ابراہیم ؑ سے اسحاق کے متعلق بھی وعدہ کیا تھا اور اسماعیل کے متعلق بھی وعدہ کیا تھا۔اسحق اور اس کی نسل کے ساتھ ہمارا جو وعدہ تھا وہ پورا ہوا جس کی آخری کڑی کے طور پر مسیح دنیامیں آیا اب تم ابراہیم کے دوسرے بیٹے اسمٰعیل کو بھی یاد کرو اس کے متعلق ہم نے ابراہیم سے جو وعدے کئے