تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 346
وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّيْ١ۖٞ اور (اے باپ ) میں تم کو اور جن (وجودوں ) کو تم اللہ کے سواپکارتے ہو سب کو چھوڑ دوںگا اور صرف اپنے رب کے عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّيْ شَقِيًّا۰۰۴۹ حضور دعائیں مانگوںگا (اور) یقیناً میں اپنے رب کے حضور دعا کرنے کی وجہ سے بدنصیب نہیں بنوں گا۔تفسیر۔آپ نے کہا ہے کہ مجھے چھوڑ کر چلے جائو آپ نے ٹھیک کہاہے۔میرا گذارہ آپ کے ساتھ مشکل ہے آپ نے بتوں کو پوجنا ہے اور میں نے خدا کو پوجنا ہے آپ کو خدا کی پرستش پر غصہ آتاہے اور مجھے بتوں کی پرستش پر غصہ آتاہے۔اَعْتَزِلُكُمْ کے یہ معنے نہیں کہ میں آئندہ بت نہیں پوجوں گا۔کیونکہ وہ تو پہلے ہی بتوں کی پرستش نہیں کرتے تھے اَعْتَزِلُكُمْ کے معنے یہ ہیں کہ میں اس جگہ کو چھوڑدوں گا۔وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اور ان بتوں کو بھی چھوڑدوں گا جن کی آپ پرستش کرتے ہیں وَ اَدْعُوْا رَبِّيْ اور میں ایسی جگہ چلا جائوںگا جہاں خداہی خدانظر آئے گا عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّيْ شَقِيًّا اس طرح بظاہر میں اپنے اوپر موت وارد کرلوں گا کیونکہ میرا ملک مجھ سے چھوٹ جائے گا میری قوم مجھ سے الگ ہوجائے گی میرا قبیلہ مجھ سے جداہوجائے گا مرے دوست اور ساتھی میرے ساتھ نہیں رہیں گے مگر میں امید کرتاہوں کہ جب میں اپنے محبت کرنے والے خدا کو پکاروں گا تواپنے مقاصد کو پالوں گا مجھے دوست بھی مل جائیں گے مجھے ساتھی بھی مل جائیں گے۔مجھے ہمدرد بھی مل جائیں گے اور مجھے قوم بھی مل جائے گی۔فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اور پھر جب (ابراہیم ) ان (یعنی اپنے ) لوگوں سے بھی اور جن کی وہ اللہ کے سواپوجا کرتے تھے (ان سے بھی) اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا۰۰۵۰ جداہوگیا تو ہم نے اسے اسحاق اور (اس کے بعد ) یعقوب عطافرمائے۔اور ان سب کو ہم نے نبی بنایا۔تفسیر۔جب اس نے ان کو چھوڑدیا اور ان کو بھی چھوڑ دیا جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سواپرستش کرتے تھے تو